لاہور اور اسلام آباد میں کئی سڑکیں ٹریفک کے لئے بند۔ انٹرنیٹ سروس معطل

اخبار ڈان نے لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف کے حوالہ سے اطلاع دی کہ مظاہرین کالاشاہ کاکو چوراہا پر پہنچ گئے ہیں اور وہ اسلام آباد پہنچنے گرانڈ ٹرنک روڈ(جی ٹی روڈ) استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

لاہور: لاہور اور اسلام آباد میں کئی سڑکیں بدستور بند ہیں کیونکہ تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) نے اپنے قائد سعد حسین رضوی کی رہائی کے لئے ہفتہ کے دن بھی احتجاج جاری رکھا۔

اخبار ڈان نے لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف کے حوالہ سے اطلاع دی کہ مظاہرین کالاشاہ کاکو چوراہا پر پہنچ گئے ہیں اور وہ اسلام آباد پہنچنے گرانڈ ٹرنک روڈ(جی ٹی روڈ) استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

اسی دوران وزیر داخلہ شیخ رشید احمد جو پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ کرکٹ میاچ کے لئے دُبئی میں تھے‘ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان لوٹ آئے ہیں تاکہ صورتِ حال کی نگرانی کریں۔

اخبار ڈان کے بموجب پنجاب سیف سٹیز اتھاریٹی (پی ایس سی اے) نے ان سڑکوں کی فہرست جاری کی ہے جو ٹریفک کے لئے بند ہیں۔ پاکستان کی وزارت ِ داخلہ نے ہفتہ کے دن لاہو رکے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کا حکم دیا۔ کل 2 پولیس والے اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب تحریک لبیک پاکستان کے بعض ورکرس نے ان پر گاڑی چڑھادی تھی۔

ڈیلی ٹائمس کی رپورٹ کے بموجب وزارت ِ داخلہ نے اعلامیہ جاری کیا کہ داتا دربار‘ شاہدرہ اور راوی پُل کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی۔ ٹی ایل پی منگل سے احتجاج کررہی ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ اس کے قائد سعد حسین رضوی کو رہا کردیا جائے جو ٹی ایل پی کے بانی علامہ خادم حسین رضوی مرحوم کے لڑکے ہیں۔

قبل ازیں خبر آئی تھی کہ شمال مشرقی پاکستانی شہر لاہور میں جمعہ کے دن احتجاجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں 3 پولیس عہدیدار ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔ احتجاجیوں نے سنگباری کی تھی۔

انہوں نے پولیس والوں کے ساتھ جھڑپوں میں لاٹھیوں کا تک استعمال کیا تھا۔ لاہور کے ڈی آئی جی(آپریشن) مظہر حسین نے ایک بیان میں کہا کہ احتجاجیوں نے جن 2 عہدیداروں کو مار ڈالا ان کی شناخت ایوب اور خالد کے طورپر ہوئی ہے جبکہ تیسرے عہدیدار کی شناخت ہونی باقی ہے۔

اسی دوران ٹی ایل پی ترجمان نے کہا کہ اس کے ورکرس کو تاریخ کی بدترین ”شیلنگ“ جھیلنی پڑی۔ میو کالج پُل کے قریب ان پر چاروں طرف سے حملہ ہوا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ جھڑپوں میں کم ازکم 500 ٹی ایل پی ورکرس شدید زخمی ہوئے اور کئی کی جان گئی۔ ڈان نے یہ اطلاع دی۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.