لڑکیوں کی شادی، اقل ترین عمر کا تعین غیراسلامی نہیں : شرعی عدالت

کٹر مسلمان بضد تھے کہ اسلام، شادی کے لئے عمر طئے کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اسلام آباد: پاکستان کی اعلیٰ اسلامی عدالت نے رولنگ دی ہے کہ لڑکیوں کی شادی کے لئے اقل ترین عمر مقرر کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں ہے۔

اس نے ایک درخواست خارج کردی جس میں چائلڈ میاریج ریسٹرینٹ ایکٹ کی بعض دفعات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس فیصلہ سے کم سنی کی شادی پر تنازعہ ختم ہوجائے گا۔

کٹر مسلمان بضد تھے کہ اسلام، شادی کے لئے عمر طئے کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ فیڈرل شریعت کورٹ (ایف ایس سی) کی سہ رکنی بنچ نے جس کی قیادت چیف جسٹس محمد نور مسکن زئی کررہے تھے، جمعرات کے دن درخواست کی سماعت کی جس میں چائلڈ میاریج ریسٹرینٹ ایکٹ (سی ایم آر اے) کی بعض دفعات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

اخبار ڈان نے اطلاع دی کہ شرعی عدالت نے درخواست خارج کردی اور واضح کردیا کہ اسلامی ریاست کی طرف سے لڑکیوں کی شادی کے لئے اقل ترین عمر کا تعین خلاف ِ اسلام نہیں ہے۔

10 صفحات کے فیصلہ میں عدالت نے کہا کہ جن دفعات میں لڑکے لڑکیوں کی اقل ترین عمر شادی تجویز کی گئی ہے وہ غیراسلامی نہیں ہے۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ تعلیم لڑکے لڑکیوں دونوں کے لئے اہم ہے۔ اسی لئے تو اسلام نے ہر مسلمان پر تعلیم حاصل کرنا لازمی قراردیا ہے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.