مسجد الاقصیٰ کامپلکس میں یہودیوں کی عبادت حق بجانب، اسرائیل کی عدالت کی رولنگ

فلسطینیوں کی جانب سے رولنگ کا استرداد، امریکہ سے مداخلت کرنے اور عرب ممالک سے فلسطینیوں کا ساتھ دینے وزیراعظم فلسطین محمد ابراہیم شتایا کی اپیل

یروشلم:اسرائیل کی ایک عدالت نے ایک تاریخ ساز رولنگ دیتے ہوئے مسجد الاقصیٰ کامپلکس میں یہودیوں کی عبادت کو واجبی و حق بجانب قرار دیا۔جس پر فلسطینیوں نے برہمی کا اظہار کیا اور اندیشہ ظاہر کیا کہ یروشلم کے اس مقدس مقام پر یہودیوں کی جانب سے قبضہ کرلیا جائے گا۔

فلسطینیوں نے اسرائیل کی مجسٹریٹ کورٹ کے اس فیصلہ کی آج مذمت کی کہ یہودی عبادت گزاروں کی عبادت کو ایک ”مجرمانہ حرکت“ متصور نہ کیا جائے اگر یہ خاموشی کے ساتھ کی جائے جو دیرینہ معاہدہ کے برخلاف ہے جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمان مسجد الاقصیٰ میں نماز ادا کریں گے جبکہ یہودی اس کے قریب میں واقع ویسٹرن وال کے پاس عبادت کریں گے۔

عدالت نے یہ فیصلہ اس لئے کیا کیونکہ ایک اسرائیلی نوآبادکار ربی اریا لپو عدالت سے رجوع ہوا تھا تاکہ مسجد الاقصی میں اس کے داخلہ پر عارضی امتناع کے احکام کو برخواست کیا جائے۔

اس کے خلاف یہ احکام اسرائیلی پولیس نے جاری کئے تھے کیونکہ اس نے احاطہ میں عبادت کی تھی۔ وزیراعظم فلسطین محمد ابراہیم اشتیا نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ احاطہ کے جوں کے توں موقف کے تحفظ سے متعلق اپنے عہد کی تکمیل کرے اور عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یگانگت کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے آج کہا ”ہم مقدس مسجد الاقصیٰ پر نئی حقیقت کو نافذ کرنے کیلئے اسرائیل کی کوششوں کے خلاف خبردار کرتے ہیں“۔

اردن نے اس فیصلہ کو مسجد الاقصیٰ کے تاریخی و قانونی موقف کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ وکیل اور ماہر یروشلم و مسجد الاقصیٰ خالد زبرخہ نے الجزیرہ کو بتایا ”اسرائیل کا عدلیہ کا نظام مسجد الاقصیٰ کے تقدس کو پامال کرنے اور اس کے جوں کے توں موقف کو تبدیل کرنے کیلئے کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی نقطہ نظر سے یہ فیصلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

قبل ازیں رملہ سے موصولہ آئی اے این ایس کی اطلاع میں یہ بتایا گیا تھا کہ فلسطین نے ایک اسرائیلی عدالت کے فیصلہ کی مذمت کی ہے جس کے ذریعہ یہودیوں کو مشرقی یروشلم کے پرانے شہر میں واقع مسجد الاقصیٰ میں عبادت کرنے کا محدود حق دیا گیا ہے۔ فلسطینی وزارت ِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اس اقدام کو مسجد الاقصیٰ پر کھلی جارحیت قراردیا۔بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی عدالت کا فیصلہ مسجد کے مقدس صحن کو تقسیم کرنے کی سمت اٹھایا گیا قدم ہے اور اس کے نتیجہ میں مسجد الاقصیٰ اور اس کے تاریخی و قانونی جوں کے توں موقف کے لئے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وزارت ِ خارجہ اس فیصلہ کی مخالفت کرنے تمام سیاسی و سفارتی اقدامات روبہ عمل لانے کی ہرممکن کوشش کرے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ وزارت ِ خارجہ‘ اردن‘ عرب لیگ‘ تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر اپنی کوششوں میں تال میل پیدا کرے گی۔

اسی دوران عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابولغیث نے بھی عدالت کے اس فیصلہ کی مذمت کی ہے اور کہا کہ اس فیصلہ سے فلسطینیوں کے وجود کو نشانہ بنانے نئی اسرائیلی حکومت کے خطرناک اور مستقل منصوبوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ ابوالغیث نے کہا کہ اسرائیلی پالیسیوں بشمول عدالتی فیصلہ سے فلسطینیوں کی اشتعال انگیزی کا خطرہ ہے کیونکہ یہ فیصلہ مذہبی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ یروشلم شہر کے قانونی و تاریخی موقف کی برقراری کی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.