ملایشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی سزا برقرار

ہائی کورٹ نے جولائی 2020 میں نجیب رزاق کو اقتدار کے بے جا استعمال‘ مجرمانہ اعتماد شکنی‘ منی لانڈرنگ اور 1 ایم ڈی بی کے سابق یونٹ ایس آر سی انٹرنیشنل سے غیرقانونی طورپر 42 ملین رنگٹ حاصل کرنے کا خاطی پایا تھا۔

پُتراجایہ(ملایشیا)۔: ملایشیا کی اپیل کورٹ نے چہارشنبہ کے دن سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی 12 سال جیل کی سزا برقرار رکھی۔

معاملہ 1 ایم ڈی بی اسٹیٹ انوسٹمنٹ فنڈ میں لوٹ مار کا ہے جس کے نتیجہ میں 2018 میں نجیب رزاق کی حکومت زوال سے دوچار ہوئی تھی۔

ہائی کورٹ نے جولائی 2020 میں نجیب رزاق کو اقتدار کے بے جا استعمال‘ مجرمانہ اعتماد شکنی‘ منی لانڈرنگ اور 1 ایم ڈی بی کے سابق یونٹ ایس آر سی انٹرنیشنل سے غیرقانونی طورپر 42 ملین رنگٹ حاصل کرنے کا خاطی پایا تھا۔

سہ رکنی اپیلیٹ بنچ نے زوم کے ذریعہ رولنگ دی کیونکہ ایک وکیل صفائی کے کورونا سے متاثر ہونے کا شبہ ہے۔ اپیل کورٹ کے جج عبدالکریم عبدالجلیل نے کہا کہ ہم اپیل خارج کرتے ہیں۔

اپیلیٹ کورٹ نے قطعی اپیل تک معاملہ زیرالتوا رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس وقت تک 68 سالہ نجیب ضمانت پر رہا رہیں گے۔ نجیب رزاق نے آن لائن نیوز کانفرنس سے کہا کہ انہیں اس فیصلہ سے مایوسی ہوئی۔ وہ بے قصور ہیں اور ملک کی سب سے بڑی عدالت فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.