مُلّا عبدالغنی برادر اور خلیل الرحمن حقانی میں بڑا جھگڑا

دونوں کے حامیوں میں بحث و تکرار اس بات پر ہوئی کہ امریکہ پر فتح پانے میں کس کا رول بڑا ہے اور نئی عبوری کابینہ میں اقتدار کس طرح بانٹا گیا۔

کابل: کابل میں طالبان کی نئی حکومت کے قیام کے چند دن بعد طالبان کے بانی مُلّا عبدالغنی برادر اور خلیل الرحمن حقانی میں بڑا جھگڑا ہوگیا۔ یہ جھگڑا صدارتی محل میں ہوا۔

دونوں کے حامیوں میں بحث و تکرار اس بات پر ہوئی کہ امریکہ پر فتح پانے میں کس کا رول بڑا ہے اور نئی عبوری کابینہ میں اقتدار کس طرح بانٹا گیا۔

سینئر طالبان عہدیداروں نے بی بی سی کو یہ بات بتائی۔ طالبان نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ طالبان نے 15  اگست کو افغانستان پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

انہوں نے اعلان کردیا کہ ملک ”امارت ِ اسلامی“ ہوگا۔ جھگڑا اس وقت منظرعام پر آیا جب ملا عبدالغنی برادر جنہیں نائب وزیراعظم بنایا گیا ہے‘ کئی دن منظر سے غائب رہے۔

طالبان ذرائع نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ ملا برادر اور خلیل الرحمن حقانی میں تلخ کلامی ہوئی۔ حقانی‘ وزیر پناہ گزیناں ہیں اور ان کے سر پر 5 ملین امریکی ڈالر کا انعام ہے۔

قریب میں موجود دونوں کے حامی ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔ قطر میں مقیم ایک سینئر طالبان رکن اور کابل میں طالبان سے جڑے ایک فرد نے بی بی سی سے توثیق کی کہ گزشتہ ہفتہ کے اواخر میں جھگڑا ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بحث وتکرار اس لئے ہوئی کہ ملا برادر‘ عبوری حکومت کے ڈھانچہ سے ناخوش ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جھگڑا اس لئے بھی ہوا کہ افغانستان کی فتح کا سہرہ طالبان میں کس کے سر بندھے۔

کہا جاتا ہے کہ ملا برادری کا ماننا ہے کہ ان جیسے لوگوں نے جو ڈپلومیسی (سفارت کاری) کی ہے اس پر زور دینا چاہئے جبکہ حقانی گروپ اور اس کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ فتح‘ جنگ کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔

ملا برادر‘ پہلے طالبان رہنما ہیں جنہوں نے کسی امریکی صدر سے راست بات چیت کی تھی۔

انہوں نے 2020 میں ڈونالڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے طالبان کی طرف سے دوحہ معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔

یہ معاہدہ‘ امریکی افواج کی واپسی سے متعلق تھا۔ طاقتور حقانی گروپ وہ گروپ ہے جس نے حالیہ برسوں میں افغان فورسس اور ان کے مغربی اتحادیوں پر انتہائی پرتشدد حملے کئے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.