پاکستان میں اسلام پسندوں نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی

5ہزار کے ہجوم نے اتوار کی رات ضلع چارہ سدہ کے مندانی پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی۔ ہجوم کا مطالبہ تھا کہ پولیس اس پاگل شخص کو اس کے حوالہ کردے۔

اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ میں اسلام پسندوں کے برہم ہجوم نے چارہ سدہ میں ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی کیونکہ پولیس نے ایک ذہنی مریض کو جس نے قرآن مجید کا ایک ورق جلا دیا تھا اس کے حوالہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

5ہزار کے ہجوم نے اتوار کی رات ضلع چارہ سدہ کے مندانی پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی۔ ہجوم کا مطالبہ تھا کہ پولیس اس پاگل شخص کو اس کے حوالہ کردے۔

خیبرپختونخواہ کے وزیرقانون فضل شکور خان نے جو چارہ سدہ سے تعلق رکھتے ہیں ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ پولیس نے ایک شخص کو اتوار کے دن قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی پر گرفتار کیا تھا اور اسے ٹانگی تحصیل کے مندانی پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا۔

پولیس اسٹیشن کے سامنے بھیڑ جمع ہوگئی اور مطالبہ کرنے لگی کہ اس شخص کو اس کے حوالہ کردیا جائے۔ پولیس نے جب اس سے انکار کردیا تو ہجوم نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی۔ پولیس اسٹیشن کے احاطہ میں پارک گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

پولیس‘ گرفتار شخص کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں کامیاب رہی۔ وزیرقانون نے کہا کہ حکومت کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں صورتحال ابھی بھی کشیدہ ہے۔

پولیس نے گرفتار شخص کی تفصیل نہیں بتائی لیکن کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کہا گیا کہ یہ شخص ذہنی مریض ہے۔ انسانی حقوق کارکن کاشف چودھری نے ٹویٹ کیا کہ سنی انتہا پسندوں کے ہجوم نے چارہ سدہ پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی۔

اس ہجوم کا مطالبہ تھا کہ قرآن مجید کا ایک ورق جلانے والے پاگل شخص کو اس کے حوالہ کردیا جائے تاکہ وہ اسے مار ڈالے۔ یہ تو پاگل پن ہے۔

انہوں نے بعدازاں ٹویٹ کیا کہ مزید پولیس چوکیاں بھی زد میں آئیں اور پولیس گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ پشاور ڈیویژن کمشنر ریاض محسود نے ڈان کو بتایا کہ 4 تا 5ہزارافراد کے ہجوم نے پولیس اسٹیشن اور ایک پولیس چوکی میں توڑ پھوڑ کی۔

حملہ کے بعد بھیڑ نے ہریچند روڈ پر دھرنا دیا۔ انتظامیہ نے مقامی مذہبی رہنماؤں کی مدد سے صورتحال پر قابو پالیا۔ وہ ہجوم کو منتشر کرنے میں کامیاب رہی۔ پولیس نے آنسو گیاس شل برسائے اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔ ایک اور پولیس عہدیدار نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن پوری طرح تباہ ہوگیا۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.