پاکستان کی اولین قومی سلامتی پالیسی، معیشت پر مرکوز : عمران خان

وزیراعظم کے دفترمیں پالیسی کا پبلک ورژن جاری کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ یہ ان کی حکومت کی بڑی ترجیح ہے۔ پالیسی کا 100 صفحات کا اصل ورژن خفیہ رہے گا۔ عمران خان نے کہا کہ نئی پالیسی پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے پر زیادہ مرکوز ہے۔

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کے دن پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی جاری کی جو شہریوں پر مرکوز فریم ورک پر مبنی ہے۔

اس میں ملک کی معیشت کو بڑھاوا دینے اور دنیا میں ملک کا قد بڑھانے پر زیادہ زوردیا گیا ہے جبکہ پچھلی سیکوریٹی پالیسی فوجی صلاحیت بڑھانے پر مرکوز ہوا کرتی تھی۔

وزیراعظم کے دفترمیں پالیسی کا پبلک ورژن جاری کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ یہ ان کی حکومت کی بڑی ترجیح ہے۔ پالیسی کا 100 صفحات کا اصل ورژن خفیہ رہے گا۔ عمران خان نے کہا کہ نئی پالیسی پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے پر زیادہ مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آگے بڑھنے کے لئے معاشی سفارت کاری پرزیادہ مرکوز رہے گی۔ قانون کی حکمرانی بھی خوشحالی اور ترقی کے لئے اہم ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیاکہ قومی سلامتی پالیسی 2022-26 ان کی حکومت کے ویژن پر مرکوز ہے جس کا ماننا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اس کے شہریوں کی سلامتی میں مضمر ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی‘ پالیسی کا پابندی سے جائزہ لیتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں پاکستان کی سلامتی پالیسی فوج پر مرکوز رہا کرتی تھی۔ جمعہ کے دن اپنی تقریر میں انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کا تقابل گوند سے کیا جو قوم کو جوڑے رکھتا ہے۔

قومی سلامتی پالیسی کی تقریب ِ اجرائی میں وفاقی وزرا‘ مشیر قومی سلامتی‘ ارکان پارلیمنٹ‘ صدرنشین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی‘ بری فوج‘بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان‘ سینئر سیول اور ملٹری عہدیدار موجود تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور فوجی طاقت کا بنیادی مقصد خطہ میں امن قائم رکھنا ہے۔ مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے اپنے ریمارکس میں قومی سلامتی ویژن پر مختصر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی معاشی سلامتی پر مرکوز ہے لیکن جغرافیائی دفاعی اور جغرافیائی سیاسی لوازمات بھی اس میں نمایاں ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.