کابل ایرپورٹ پر 2 بم دھماکے‘60 افراد ہلاک

اس واقعہ کے ساتھ ہی پرہجوم کابل ایرپورٹ پر دلخراش مناظر دیکھے گئے اور افراتفری کے عالم میں زخمیوں کو دواخانوں میں منتقل کیا جارہا تھا۔

کابل: افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد بڑی تعداد میں تخلیہ کی کاروائی کے دوران جمعرات کو کابل ایرپورٹ کے قریب 2 خودکش بمباروں اور بندوق برداروں نے ہجوم کو نشانہ بناتے ہوئے طاقتور دھماکے کئے جس کے نتیجہ میں کم ازکم 60 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 12 امریکی فوجی شامل ہیں۔

اس واقعہ کے ساتھ ہی پرہجوم کابل ایرپورٹ پر دلخراش مناظر دیکھے گئے اور افراتفری کے عالم میں زخمیوں کو دواخانوں میں منتقل کیا جارہا تھا۔

امریکہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ حملہ کی نوعیت سے لگتا ہے کہ یقینی طور پر یہ اسلامک اسٹیٹ گروپ (داعش) نے کیا ہے۔مہلوکین کی تعداد ابتداء میں 13 بتائی گئی تھی لیکن بعد میں افغان وزارتِ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ ہلاکتیں 60 تک پہنچ گئی ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 120 ہے۔

یہ دھماکے امریکہ کی جانب سے اپنے شہریوں کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے طیرانگاہ سے دور رہنے کے انتباہ کے چند گھنٹوں بعد ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مہلوکین اور زخمیوں میں امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔

پنٹگان کے پریس سکریٹری جان کروی نے ایک بیان میں کہا ”ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ کابل ایرپورٹ پر آج کے خطرناک حملہ میں امریکی فوج کے کئی ارکان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دیگر کئی زخمیوں کا علاج کیا جارہا ہے۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ افغانیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس حملہ کا نشانہ بنی ہے۔ اس دوران طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کی پُرزور مذمت کی تاہم کہا کہ دھماکے اس مقام پر ہوئے ہیں جہاں سکیورٹی کی ذمہ داری امریکی فورسس کے ذمہ تھی۔

انہوں نے آج ایک ٹوئٹ کیا ”اسلامی امارات کابل ایرپورٹ پر شہریوں کی بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی سخت مذمت کرتی ہے جو اس مقام پر کئے گئے ہیں جہاں امریکی فورسس سکیورٹی کیلئے ذمہ دار ہیں۔

اسلامی امارات عوام کی سلامتی اور تحفظ پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور بدی کے گوشوں کو سختی سے روک دیا جائے گا“۔ کابل ایرپورٹ کے قریب دھماکوں کا ایک ویڈیو منظرعام پر آیا ہے جس میں ایک زبردست دھماکہ سے آسمان روشن ہوتا ہوا دیکھا گیا اور پھر آسمان کی طرف کثیف گہرا دھواں اٹھنے لگا۔ اس دھماکہ کے چند ہی سکینڈ بعدایک دوسرا دھماکہ کیا گیا۔

پنٹگان کے پریس سکریٹری جان کروی کا کہنا ہے کہ ایک دھماکہ کابل ایرپورٹ کے ابے گیٹ پرکیا گیا جبکہ دوسرا بارون ہوٹل کے قریب کیا گیا جو تھوڑے ہی فاصلہ پر واقع ہے۔

خیال رہے کہ ابے گیٹ طیرانگاہ کے اُن چار باب الداخلوں میں سے ایک ہے جہاں کابل پر طالبان کی فتح کے بعد 15 اگست سے ہزارہا عوام کا ہجوم جمع ہورہا ہے جو ملک چھوڑنے کیلئے بے چین ہیں۔

سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالہ سے بتایا کہ ابے گیٹ پر حملہ کیلئے خودکش بمبار ذمہ دار ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن کو وائٹ ہاوز میں کابل کی تازہ صورتحال سے واقف کروایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چہارشنبہ کی رات امریکہ اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو طیرانگاہ کے باب الداخلہ کے باہر دہشت گرد حملہ کے خطرہ کی وجہ سے ایرپورٹ پر نہ جانے کا انتباہ دیا تھا۔ قبل ازیں آج دن میں طالبان نے ایرپورٹ کے ایک باب الداخلہ پر جمع افراد کو وہاں سے ہٹانے کیلئے آبی توپوں کا استعمال کیا تھااور ہلکی آنسوں گیس چھوڑنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.