کابل پاسپورٹ آفس پر عوام کا زبردست ہجوم

طالبان فوجیوں کو نظم کی برقراری کیلئے ہجوم کو مارپیٹ کرنی پڑی۔ طالبان عہدیداروں نے بتایاکہ اگست میں اشرف غنی حکومت کی بیدخلی اور مسلح گروپ کے اقتدار پر قبضہ کے بعد سے پاسپورٹس کی اجرائی معطل کردی گئی تھی جو ہفتہ کے دن سے دوبارہ شروع ہوجائے گی۔

کابل: افغانستان میں پاسپورٹ کے اجراء کا آغاز کر دیا گیا۔پاسپورٹ کے اجرائی کی بحالی کا اعلان سربراہ محکمہ پاسپورٹ نے کل پریس کانفرنس میں کیا تھا جس میں افغان خاتون صحافی بھی شریک ہوئیں۔

افغانستان کے پاسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے قائم مقام ڈائرکٹر عالم گل حقانی نے کابل میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 25 ہزار درخواست گزاروں کے پاسپورٹ اجراء کیلئے تیار ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یومیہ 5 سے 6 ہزار پاسپورٹس کا اجراء کریں گے، خواتین کے پاسپورٹ کے معاملے سے نمٹنے کیلئے محکمے میں خواتین کو ملازمت دی جائے گی۔

علیحدہ اطلاع کے مطابق سینکڑوں افغانی باشندے کابل میں پاسپورٹ آفس کے باہر جمع ہوگئے جس نے ایک دن پہلے ہی سفری دستاویز کی اجرائی کا اعلان کیا تھا۔

طالبان فوجیوں کو نظم کی برقراری کیلئے ہجوم کو مارپیٹ کرنی پڑی۔ طالبان عہدیداروں نے بتایاکہ اگست میں اشرف غنی حکومت کی بیدخلی اور مسلح گروپ کے اقتدار پر قبضہ کے بعد سے پاسپورٹس کی اجرائی معطل کردی گئی تھی جو ہفتہ کے دن سے دوبارہ شروع ہوجائے گی۔

ایک درخواست گذار ماہر رسولی نے بتایاکہ میں پاسپورٹ لینے آیا ہوں لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں ڈھیر سارے مسائل ہیں۔ سسٹم کام نہیں کررہا ہے۔ ہمارے سوالات کا جواب دینے کوئی عہدیدار موجود نہیں ہے جو ہمیں یہ بتاسکے کہ ہم دوبارہ کب یہاں آئیں لوگ اُلجھن میں ہیں۔

سینکڑوں افراد جو پاسپورٹ دفتر پر جمع ہوئے تھے‘ اُنہیں یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ ابھی نہ آئیں کیونکہ پاسپورٹس کی اجرائی ہفتہ کے دن سے شروع ہوگی۔ ابتداء میں صرف اُن لوگوں کو پاسپورٹ دیا جائے گا جو پہلے ہی درخواست داخل کرچکے ہیں۔

ہجوم نے کنکریٹ کی ایک بڑی رکاوٹ پر چڑھنے کی کوشش کی تاکہ اُس کے اوپر کھڑے ہوئے عہدیدار کو اپنے دستاویزات تھماسکے۔اِس کے ساتھ ہی کابل ایرپورٹ پرافراتفری کے مناظر کی یاد تازہ ہوگئی۔ عہدیدار نے ہجوم سے خواہش کی کہ وہ ہفتہ کے دن دوبارہ آئیں۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.