کرنسی کی قدر گھٹنے سے افغان شہریوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ

عام لوگوں کا ماننا ہے کہ صورتحال نے ان کی معاشی پریشانیاں بڑھا دی ہیں‘ خاص طورپر غذائی اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

کابل: افغانستان کی قومی کرنسی افغانی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلہ میں گذشتہ سالوں میں گھٹتی رہی ہے جس سے افغان عوام کے مالی مسائل بڑھ گئے ہیں۔

عام لوگوں کا ماننا ہے کہ صورتحال نے ان کی معاشی پریشانیاں بڑھا دی ہیں‘ خاص طورپر غذائی اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

مولودین نامی شخص نے بتایا کہ زر مبادلہ کی شرح روزانہ بدل رہی ہے۔ ایکسچینج مارکٹ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نہ اس پر قابو پانے کا کوئی منصوبہ ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ افغانی کی قدر گھٹنے کا راست اثر غذائی اشیاء اور دیگر بنیادی اشیاء کے دام پر پڑتا ہے کیونکہ ہم روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء باہر سے منگواتے ہیں۔

شمالی صوبہ ثمن گان کے چھوٹے بیوپاری نے کہا کہ میری آمدنی افغانی میں ہے۔ اشیاء کے دام بڑھتے جارہے ہیں۔ میری آمدنی میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ طالبان حکومت کچھ کرے۔ وہ معاشی بحران کا حل تلاش کرے۔

کابل کے وسطی علاقوں میں واقع سرائے شہزادہ میں جو مین ایکسچینج مارکٹ ہے افغانی کی حالیہ قدر امریکی ڈالر کے مقابلہ 96.40رہی۔ یہ شرح پچھلے 20برس میں سب سے کم ہے۔

اگست میں طالبان کے کنٹرول اور 7ستمبر کو نگراں حکومت کے قیام کے بعد سے ایشیاء ملک کو کئی معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ امریکہ نے افغان سنٹرل بینک کے 9بلین امریکی ڈالر کے اثاثے منجمد کردئیے جس کے نتیجہ میں معاشی صورتحال ابتر ہوگئی۔

ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے بھی فنڈس رک گئے ہیں۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ افغانستان کا بینکنگ اور مالیاتی نظام ڈھیر ہونے کو ہے۔

سرکاری اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ 2019میں لگ بھگ 54.5فیصد افغان خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے۔ 2020میں یہ تناسب بڑھ کر 72فیصد ہوگیا۔ 2020کے اوائل میں ایک امریکی ڈالر کے 76افغانی بنتے تھے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.