ہم تمام ممالک سے معاشی اور سیاسی تعاون کے خواہاں : ذبیح اللہ مجاہد

ذبیح اللہ مجاہد نے ٹاس نیوز ایجنسی کو بتایا، ‘ہم ماسکو مذاکرات کے دوران اپنے ہم سایہ ممالک سے افغانستان کو معاشی، سیاسی اور سفارتی شعبے میں مدد کرنے کی اپیل کریں گے ’۔

ماسکو: طالبان نے کہا ہے کہ وہ ہندوستان سمیت مختلف ممالک سے افغانستان کے لیے معاشی اور سیاسی مدد چاہتا ہے۔

ماسکو مذاکرات سے پہلے، طالبان ترجمان اور افغانستان کے وزیر اطلاعات و ثقافت ذبیح اللہ مجاہد نے ٹاس نیوز ایجنسی کو بتایا، ‘ہم ماسکو مذاکرات کے دوران اپنے ہم سایہ ممالک سے افغانستان کو معاشی، سیاسی اور سفارتی شعبے میں مدد کرنے کی اپیل کریں گے ’۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو مالی مدد کی ضرورت ہے۔طالبان کے ترجمان نے کہا کہ خطے کی سلامتی اور استحکام میں افغانستان کا اہم کردار ہے اور طالبان کا وفد کا منصوبہ ماسکو میں اس کے مطابق مذاکرہ کرنے کا ہے ’۔

مجاہد نے کہا،‘بلاشبہ، کانفرنس علاقائی اور افغانستان کی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور سماجی مسائل پر بھی مرکوز رہے گی’۔طالبان نے کہا کہ کارگذار نائب وزیر اعظم مولوی عبدالسلیم حنفی کی قیادت میں ہمارا وفد ماسکو میں اس حوالے سے بات چیت کرے گا۔

کارگذار وزیر خارجہ عامر خان متقی اور کابینہ کا ایک اور رکن بھی اس وفد میں شامل ہوگا۔قابل ذکر ہے کہ ماسکو ڈائیلاگ 2017 میں روس، افغانستان، ہندوستان، ایران، چین اور پاکستان کے خصوصی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے لیے قائم کیا گیا ایک فورم ہے۔

علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ روس، چین اور پاکستان، افغانستان کو امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ اس وقت طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹر کے مطابق انسانی امداد و اقتصادی حمایت کا وعدہ روسی، پاکستانی اور چینی عہدیداران کی درمیان گفتگو کے بعد سامنے آیا جو بدھ کو ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں افغانستان حکومت کے نمائندگان سے ملیں گے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.