برطانوی دارالعوام میں کشمیر کی صورتحال پر بحث

ہندوستان نے کہا کہ کسی بھی فورم میں ہندوستان کے اٹوٹ حصہ سے متعلق موضوع پر کچھ بھی کہنا ہو تو وہ بات مستند حقائق پر مبنی ہونی چاہئے۔

لندن : برطانیہ کے کُل جماعتی پارلیمانی گروپ(اے پی پی جی) برائے کشمیر نے دارالعوام میں بحث کے لئے ”کشمیر میں انسانی حقوق“ پر تحریک پیش کی ہے جس پر ہندوستان نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ہندوستان نے کہا کہ کسی بھی فورم میں ہندوستان کے اٹوٹ حصہ سے متعلق موضوع پر کچھ بھی کہنا ہو تو وہ بات مستند حقائق پر مبنی ہونی چاہئے۔

فارن‘ کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) میں وزیر برائے ایشیا آمندا ملنگ نے جمعرات کے دن بحث کا جواب دیا۔

انہوں نے دُہرایا کہ حکومت برطانیہ کا موقف غیرمتبدل ہے کہ کشمیر‘ باہمی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت‘ کشمیر کی صورتِ حال کو بڑی سنجیدگی سے لیتی ہے لیکن دیرپا سیاسی حل تلاش کرنا‘ ہندوستان اور پاکستان کا کام ہے۔

حل تجویز کرنا یا ثالثی کرنا برطانیہ کا کام نہیں ہے۔حکومت ہند نے بحث میں حصہ لینے والے بعض ارکان پارلیمنٹ کی زبان پر خاص طورپر پاکستانی نژاد لیبر ایم پی ناز شاہ کی زبان پر ناراضگی ظاہر کی۔

یہ بحث مارچ 2020 میں ہونی تھی لیکن کووِڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسے ملتوی کیا گیا تھا۔ بحث کی شروعات لیبر رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہم نے کی جنہوں نے فروری 2020میں اپنے دورہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کا تذکرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ہمیں بلاروک سفر کرنے دیا۔ ہم نے انسانی حقوق کے تعلق سے سوالات کئے۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کے دن کی بحث کسی ملک کے خلاف یا کسی ملک کے حق میں نہیں تھی۔ مختلف جماعتوں کے 20 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے بحث میں حصہ لیا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.