جرمن پارلیمانی انتخابات، چانسلر مرکل 16برس بعد اقتدار سے الگ ہوجائیں گی

آج براہ راست چانسلر کا انتخاب نہیں ہو گا بلکہ ووٹرز پارلیمان کے ارکان چنیں گے۔ ہر ووٹر دو ووٹ ڈال سکتا ہے۔ پہلا ووٹ ضلعی نمائندے کے انتخاب کے لیے ہوتا ہے۔

برلن:جرمنی میں نئے پارلیمان کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالنے کا سلسلہ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے شروع ہو گیا ہے۔ ووٹنگ میں ساٹھ ملین سے زائد شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کون سی پارٹی اکثریت حاصل کر پائے گی۔

 مبصرین کے مطابق توقع یہی ہے کہ ایک مخلوط حکومت تشکیل پائے گی۔ تازہ ترین جائزوں کے مطابق سیاسی جماعت ایس پی ڈی کے چانسلر امیدوار اولاف شْلس سی ڈی یو کے امیدوار آرمین لاشیٹ سے کچھ سبقت لیے ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر کل سینتالیس جماعتیں اور گروپ اس الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان انتخابات کے بعد چانسلر انجیلا مرکل تقریباً 16 برس بعد اقتدار سے الگ ہو جائیں گی۔

پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کے لیے کم از کم پانچ فیصد عوامی تائید حاصل کرنا لازمی ہے۔ اس الیکشن میں 60.4 ملین افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین (CDU) اور صوبہ باویریا میں اس کی اتحادی جماعت کرسچیئن سوشل یونین (CSU)، فری ڈیموکریٹس (FDP)، ماحول دوست گرین پارٹی، دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعت آلٹرنیٹوو فار ڈوئچلانڈ (AfD) اور سوشلسٹ لیفٹ پارٹی گزشتہ چار برسوں کے دوران پارلیمان کا حصہ رہی ہیں۔

جرمن الیکٹورل سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟جرمن الیکٹورل سسٹم ذرا مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔ آج براہ راست چانسلر کا انتخاب نہیں ہو گا بلکہ ووٹرز پارلیمان کے ارکان چنیں گے۔ ہر ووٹر دو ووٹ ڈال سکتا ہے۔ پہلا ووٹ ضلعی نمائندے کے انتخاب کے لیے ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ ملک کے ہر ضلعے اور خطے سے کوئی نہ کوئی رکن پارلیمان تک لازمی پہنچے۔ جرمنی میں مجموعی طور پر 299 الیکٹورل ڈسٹرکٹس ہیں۔ پھر دوسرا ووٹ کسی سیاسی پارٹی کو ڈالا جاتا ہے، جس سے بنڈس ٹاگ یا پارلیمان تشکیل دی جاتی ہے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.