’داعش کی دُلہن‘ برطانیہ لوٹنے کے لئے تیار

داعش کی نام نہاد دُلہن شمیمہ بیگم کو 2019 میں میڈیا سے یہ کہنے کے بعد برطانیہ کی شہریت سے محروم کردیا گیا تھا کہ اسے ایک جہادی کے ساتھ شادی کے لئے شام کا سفر کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔

لندن: شمیمہ بیگم نے جس نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ / داعش کے ایک رکن سے شادی کرنے 2015 میں شام کا سفر کیا تھا اور بعدازاں برطانوی شہریت سے محروم ہوگئی تھی‘ اعلان کیا ہے کہ وہ مقدمہ کا سامنا کرنے برطانیہ لوٹنے پر آمادہ ہے۔

اس نے شام کے ایک حراستی کیمپ سے اسکائی نیوز براڈکاسٹر کو انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں میرا واحد جرم میرا یہاں آنا ہے جس کے لئے میں جیل جانے کو تیار ہوں لیکن میرے خلاف الزامات کا جہاں تک سوال ہے میں قانونی لڑائی لڑنے کو تیار ہوں۔

داعش کی نام نہاد دُلہن شمیمہ بیگم کو 2019 میں میڈیا سے یہ کہنے کے بعد برطانیہ کی شہریت سے محروم کردیا گیا تھا کہ اسے ایک جہادی کے ساتھ شادی کے لئے شام کا سفر کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔

فروری 2020 میں برطانوی سپریم کورٹ نے حکومت ِ برطانیہ کے فیصلہ کو برقرار رکھا تھا اور کہا تھا کہ وہ شہریت کا کیس لڑنے کے لئے اپنے مقام ِ پیدائش (برطانیہ) نہیں لوٹ سکتی کیونکہ اسے قومی سلامتی کے لئے جوکھم قراردیا جاچکا ہے۔

شمیمہ بیگم نے جس کی عمر اب 22 برس ہے‘ زور دے کر کہا کہ اسلامک اسٹیٹ میں شامل ہونے کے لئے جب وہ شام جارہی تھی تو اس کے دل و دماغ میں برطانیہ سے کوئی نفرت نہیں تھی۔

اس نے دہشت گرد سرگرمیوں میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کی۔ اس نے کہا کہ میں برطانیہ سے نفرت نہیں کرتی۔ اصل میں مجھے اپنی زندگی سے نفرت ہے۔ اس نے کہا کہ کئی کمسن لڑکے لڑکیوں کی طرح وہ اُس وقت اپنی زندگی کے نازک دور سے گزررہی تھی۔

اُس وقت دوسروں کے لئے اس سے فائدہ اٹھانا یا اس کا استحصال کرنا آسان تھا۔ پچھلے انٹرویو میں شمیمہ بیگم نے کہا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ کے رکن سے شادی کے بعد اسے 3 بچے پیدا ہوئے اور تینوں فوت ہوگئے۔

ذریعہ
یو این آئی اسپوٹنک

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.