سائنسداں‘ افغانستان چھوڑکر جانے لگے

کابل پالی ٹیکنک یونیورسٹی کے ریسرچر حمیداللہ واعظی نے کہا کہ مستقبل بڑا غیریقینی ہے۔ کاتب یونیورسٹی کابل میں صحت عامہ کے سائنسداں عطااللہ احمدی کا کہنا ہے کہ ہم نے گزشتہ 20 برس میں جو کامیابیاں حاصل کی تھیں وہ جوکھم میں ہیں۔

لندن: امریکی فوج کے انخلاء اور افغانستان میں طالبان کی واپسی نے ریسرچ کرنے والے سائنسدانوں میں بڑا خوف اور مایوسی پیدا کی ہے جن کا کہنا ہے کہ نہ صرف فنڈنگ کی اصطلاح میں بلکہ سائنس کا بھی بھاری نقصان ہوگا۔

1996-2001 کے اپنے پہلے دور میں بنیاد پرست گروپ نے شریعت نافذ کی تھی۔ 2001 میں امریکہ کے حملہ اور طالبان کی بے دخلی کے بعد سے ریسرچ پھلی پھولی۔

طالبات تعلیم حاصل کرنے لگیں اور کینسر تا جیولوجی ریسرچ نے فروغ پایا۔ اب طالبان کے دوبارہ کنٹرول کے بعد سائنسدانوں کو نہ صرف اپنی جانوں بلکہ ریسرچ کے مستقبل کا بھی خطرہ ہے۔ کئی سائنسداں ملک چھوڑکر جارہے ہیں۔

ملک میں جو سائنسداں رہ گئے ہیں انہیں فنڈنگ کی کمی کا سامنا ہے۔ انہیں عتاب جھیلنے کا بھی خطرہ ہے۔ خبروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان حکومت کو سمندر پار سے ملنے والی کئی بلین ڈالر کی امداد مسدود ہوچکی ہے۔

کابل پالی ٹیکنک یونیورسٹی کے ریسرچر حمیداللہ واعظی نے کہا کہ مستقبل بڑا غیریقینی ہے۔ کاتب یونیورسٹی کابل میں صحت عامہ کے سائنسداں عطااللہ احمدی کا کہنا ہے کہ ہم نے گزشتہ 20 برس میں جو کامیابیاں حاصل کی تھیں وہ جوکھم میں ہیں۔

گزشتہ 20 برس میں 36 یونیورسٹیاں قائم ہوئیں۔ کئی خانگی جامعات بھی وجود میں آئیں۔ 2001 میں سرکاری جامعات میں طلبا کی تعداد 8 ہزار تھی جو 2018 میں بڑھ کر 1 لاکھ 70 ہزار ہوگئی۔

اس تعداد میں ایک چوتھائی تعداد لڑکیوں کی ہے۔ ریسرچ پیپرس کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ 2011میں یہ تعداد 71تھی جو 2019 میں بڑھ کر 285 ہوگئی۔

کئی محققین روپوش ہوگئے ہیں یا پڑوسی ممالک چلے جانے کا منصوبہ رکھتے ہیں بعض‘ سمندر پار پناہ لے رہے ہیں تاہم کئی محققین کا کہنا ہے کہ طالبان‘ یونیورسٹی سربراہوں سے کلاسس دوبارہ شروع کرنے کے لئے بات چیت کررہے ہیں۔ لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے دیا جاسکتا ہے۔ طالبان نے علیحدہ کلاسس کا حکم دیا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.