31 سال بعد بھی جرمنی کا اتحاد ادھورا:انجیلا مرکل

مرکل نے کہا کہ غلط معلومات کی فراہمی اور اکسانے کا کھلے عام مباحثوں میں رجحان پایا جاتا ہے جو جمہوریت پر ایک حملہ ہے۔

برلن: چانسلر انجیلا مرکل نے آج کہا کہ جرمنی کے شہریوں کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ جمہوریت کیلئے کام کرنے کا سلسلہ برقرار رکھیں کیونکہ ملک مشرق اور مغرب کے دوبارہ اتحاد کی 31 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔

سبکدوش چانسلر نے اپنی آخری اہم ترین تقاریر میں سے ایک تقریر میں حسب توقع کہا کہ ذہنی اور عملی طور پر اتحاد کی ابھی تکمیل نہیں ہوئی ہے۔ تین دہے چل رہے ہیں اور جرمنی کے سابقہ کمیونسٹ مشرق اور مغرب کے درمیان سیاسی و معاشی خلیج ہنوز برقرار ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس فرق کا گذشتہ ماہ کے قومی انتخابات میں پتہ چلا ہے جس میں جرمنی پارٹی کے فار رائٹ متبادل نے مشرق میں بھی 16 حلقوں پر قبضہ کرلیا۔ کیونکہ سارے ملک میں اس کے ووٹ کے مجموعی حصہ میں کمی آئی ہے۔

مرکل نے کہا کہ غلط معلومات کی فراہمی اور اکسانے کا کھلے عام مباحثوں میں رجحان پایا جاتا ہے جو جمہوریت پر ایک حملہ ہے۔

انہوں نے ان کی پارٹی کے علاقائی سیاستدانوں میں سے ایک سیاست دان کے قتل، ہیلے میں واقع یہودیوں کی عبادت گاہ پر حملہ اور گیاس اسٹیشن کے کلرک کو جس نے کسی سے ماسک پہننے کی خواہش کی تھی گولی مار کر ہلاک کردینے کا حالیہ واقعہ یہ سب مثالیں ہیں۔

جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جرمنی کے سماج میں باغی عناصر پائے جاتے ہیں اور وہ باغیانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.