ابوظہبی میں جرم اور سزا کے نئے قانون کی توثیق

عصمت دری کے جرم پر عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جس کے مطابق متاثرہ فرد کی عمر اگر 18 سال سے کم ہو، معذور یا مزاحمت نہ کرنے کے قابل ہو تو ملزم کو سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔

ابوظبی: متحدہ عرب امارات میں نئے اور تازہ ترین جرم اور سزا کے قانون میں توثیق کردی گئی، یہ قانون سازی خواتین اور گھریلو ملازمین کے بہتر تحفظ کے لیے ہے۔

نئی قانون سازی کے مطابق ماورائے ازدواجی تعلقات پر پابندی اور سزا کو کم کیا گیا ہے، قانون 2 جنوری 2022ء سے مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔

عصمت دری کے جرم پر عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جس کے مطابق متاثرہ فرد کی عمر اگر 18 سال سے کم ہو، معذور یا مزاحمت نہ کرنے کے قابل ہو تو ملزم کو سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔

نئے قانون میں غیر اخلاقی حملے کا جرم قید یا 10 ہزار درہم تک کی سزا ہوگی۔

اس سے قبل رواں مہینے کے آغاز میں متحدہ عرب امارات میں غیر مسلموں کے لیے نئے قوانین کی منظوری دی گئی تھی، قوانین کی منظوری امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے دی تھی۔

عرب میڈیا کے مطابق نئے خاندانی قوانین ریاست ابوظبی میں مقیم غیر مسلم تارکین پر لاگو ہوں گے، خاندانی قوانین 20 سے زائد دفعات پر مشتمل ہیں جو نجی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہیں۔

نئے قانون کی ایک شق شادی بیاہ اور طلاق کے قوانین پر مشتمل ہے، دوسری شق شوہر اور بیوی کے حقوق اور واجبات کے متعلق ہے۔ دوسری شق طلاق کی صورت میں جائداد کی تقسیم اور مالی معاملات سے متعلق ہے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.