فلسطینیوں کا خوف‘ اسرائیل نے 65کلومیٹر طویل آہنی دیوار کھڑی کردی

وزارت دفاع نے کہا کہ بیریئر میں سیکڑوں کیمرے، ریڈار اور دیگر سینسر جڑے ہوئے ہیں اور ساڑھے تین سال کے عرصے میں 65 کلومیٹر طویل دیوار کی تعمیر مکمل ہوئی جس میں ایک لاکھ 40 ہزار ٹن لوہا اور اسٹیل استعمال کیا گیا۔

یروشلم: اسرائیل نے غزہ پٹی کے اطراف واکناف زیر زمین ایک آہنی دیوار کی تکمیل کااعلان کیا جس کامقصد عسکریت پسندوں کے ملک میں داخلہ کو روکناہے۔ منگل کو اس کاروائی کی تکمیل ہوئی جس میں سینکڑوں کیمروں‘راڈارس اور دیگر سنسرس اور کمانڈس سنٹر اور کنٹرول روم شامل ہیں۔ وزارت دفاع کے بیان میں یہ بات بتائی۔ اس میں ایک بحری رکاوٹ بھی شامل ہے جس کامقصد سمندر میں در اندازی اور ریموٹ کنٹرول اسلحہ سسٹم کا پتہ چلاناہے۔ اس کا طول 65 کلو میٹر ہے اور اس کی تعمیر میں ایک لاکھ 40ہزار ٹن لوہا اور فولاد استعمال کیاگیا۔

 غزہ میں پھنسے فلسطینیوں کے راستے مسدود کرنے کیلیے اسرائیل نے ایک اور اقدام کرتے ہوئے غزہ کی طرف زیرزمین جدید ٹیکنالوجی سے لیس آہنی دیوار مکمل کرلی ہے۔ جبکہ غزہ کا دوسرا راستہ مصر کی اسرائیل نواز حکومت نے پہلے ہی بند کررکھا ہے. رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے کہا کہ 2014 میں فوجیوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے حماس کی جانب سے سرنگ کے استعمال کے بعد جوابی اقدامات کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آہنی دیوار کھڑی کی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیردفاع بینی گینٹز نے کہا کہ بیریئر ایک جدید ٹیکنالوجی کا منصوبہ ہے جس کا مقصد حماس پر برتری حاصل کرنا ہے جس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی۔وزارت دفاع نے کہا کہ بیریئر میں سیکڑوں کیمرے، ریڈار اور دیگر سینسر جڑے ہوئے ہیں اور ساڑھے تین سال کے عرصے میں 65 کلومیٹر طویل دیوار کی تعمیر مکمل ہوئی جس میں ایک لاکھ 40 ہزار ٹن لوہا اور اسٹیل استعمال کیا گیا۔منصوبے کے حوالے سے کہا گیا کہ اس میں اسمارٹ فینس 6 میٹر سے زیادہ اونچا ہے اور اس میں میری ٹائم بیریئر میں سمندر سے داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے اور ریموٹ کنٹرول ہتھیاروں کے نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت ہے۔

دوسری جانب غزہ کی مصر کے ساتھ 14 کلومیٹر طویل سرحد ہے جہاں سے فلسطینیوں کے گزرنے کی اجازت نہیں ہے اور سیکیورٹی خدشات کے باعث بدستور بند ہے۔مصر نے اپنی طرف سے اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے سرنگ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور حماس نے اپنی گشت میں اضافہ کردیا تھا۔ اسرائیل نے 2007 سے غزہ کا محاصرہ کیا ہوا جب غزہ میں حماس نے انتخابات میں کامیابی کے بعد حکومت بنائی تھی۔اسرائیلی محاصرے اور مصر کی جانب سے سرحد بند کرنے سے غزہ کے شہریوں کو غذائی اجناس سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں 20 لاکھ سے زیادہ آبادی مقیم ہے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں اور اسرائیل نے فضائی بمباری کے ذریعہ بے دردی سے فلسطینیوں کا قتل عام بھی کیا تھا۔

رواں برس مئی میں بھی فریقین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جبکہ اسرائیلی فورسز نے بمباری کی تھی جس کے جواب میں حماس نیکئی راکٹ داغے تھے۔اسرائیل کی بمباری 11 روز جاری رہی تھی اور اس دوران غزہ میں 240 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ اسرائیل نے 12 شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.