مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کیاجائے:اردغان

اردغان نے جنرل اسمبلی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ 74 سال سے فریقین کے درمیان اقوام متحدہ کے متعلقہ قرار دادوں کے چوکھٹے میں اس وقت جاری مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے پھر ایک مرتبہ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو اٹھایاہے۔

تاہم ان کے گذشتہ دو سالہ سخت گیر بیانات کے مقابلہ میں ان کا لب و لہجہ سخت گیر نہیں تھا۔

انہوں نے جنرل اسمبلی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ 74 سال سے فریقین کے درمیان اقوام متحدہ کے متعلقہ قرار دادوں کے چوکھٹے میں اس وقت جاری مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔

 لیکن گذشتہ سال انہوں نے کشمیر کی صورتحال کو ایک سلگتا ہوا مسئلہ قرار دیا اور کشمیر کے خصوصی موقف کی برخواستگی پر تنقید کی۔

 2019 میں اردغان نے کہا تھا کہ قرارداد وں کی منظوری کے باوجود کشمیر اس وقت بھی حل طلب مسئلہ ہے اور 8ملین افراد کشمیر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی علاقہ کاحوالہ دیتے ہوئے یہ بات بتائی۔

 اسی سال مہاتر محمد جو ملایشیا کے وزیراعظم تھے انہوں نے کشمیر کے مسئلہ کو اٹھانے میں اردغان کا ساتھ دیا۔

2019 میں اردغان کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم ہندوستان نریندر مودی نے اپنے مقررہ دورہ ترکی کو منسوخ کردیاتھا۔

ہندوستان وزیراعظم اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان 1972 میں طے کردہ شملہ سمجھوتہ کے تحت کشمیر ایک باہمی مسئلہ ہے اور اسے بین الاقوامی نہیں بناناچاہئے۔ تقریر میں اردغان نے ایغورمسلم اقلیت کی چین میں مشکلات کا  حوالہ دیا۔ ترک صدر رجب طیب اردغان  نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر پاکستان اور بھارت کے مابین دہائیوں پرانے مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.