مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کی اجازت، فلسطین کا اظہار مذمت

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابولغیث نے بھی عدالت کے اس فیصلہ کی مذمت کی ہے اور کہا کہ اس فیصلہ سے فلسطینیوں کے وجود کو نشانہ بنانے نئی اسرائیلی حکومت کے خطرناک اور مستقل منصوبوں کی عکاسی ہوتی ہے۔

رملہ: فلسطین نے ایک اسرائیلی عدالت کے فیصلہ کی مذمت کی ہے جس کے ذریعہ یہودیوں کو مشرقی یروشلم کے پرانے شہر میں واقع مسجد الاقصیٰ میں عبادت کرنے کا محدود حق دیا گیا ہے۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اس اقدام کو مسجد الاقصیٰ پر کھلی جارحیت قراردیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی عدالت کا فیصلہ مسجد کے مقدس صحن کو تقسیم کرنے کی سمت اٹھایا گیا قدم ہے اور اس کے نتیجہ میں مسجد اقصیٰ اور اس کے تاریخی و قانونی جوں کے توں موقف کے لئے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وزارت خارجہ اس فیصلہ کی مخالفت کرنے تمام سیاسی و سفارتی اقدامات روبہ عمل لانے کی ہرممکن کوشش کرے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ وزارت خارجہ‘ اردن‘ عرب لیگ‘ تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر اپنی کوششوں میں تال میل پیدا کرے گی۔ اسی دوران عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابولغیث نے بھی عدالت کے اس فیصلہ کی مذمت کی ہے اور کہا کہ اس فیصلہ سے فلسطینیوں کے وجود کو نشانہ بنانے نئی اسرائیلی حکومت کے خطرناک اور مستقل منصوبوں کی عکاسی ہوتی ہے۔

 ابوالغیث نے کہا کہ اسرائیلی پالیسیوں بشمول عدالتی فیصلہ سے فلسطینیوں کی اشتعال انگیزی کا خطرہ ہے کیونکہ یہ فیصلہ مذہبی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ یروشلم شہر کے قانونی و تاریخی موقف کی برقراری کی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.