مسجد الحرام کوزائرین اور نمازیوں کیلئے کھول دیا گیا ، روح پرور مناظر

مسجد الحرام کے زائرین نے فجر کی نماز کے امام کو تکبیرہ اولی کہنے سے پہلے ’استووا، اقیموا صفوفکم، تراصوا‘ کہتے ہوئے سنا گیا۔ یہ وہ الفاظ ہیں جن کے ذریعہ امام نمازوں کو صفیں سیدھی کرنے، کندھے سے کندھا ملانے اور درست طریقہ سے کھڑے ہونے کی ہدایت کرتا ہے۔

ریاض: سعودی حکومت نے مسجد الحرام کو نمازیوں کے لیے کھول دیا ہے۔سعودی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی دونوں خوراکیں لینے والے افراد حرمین شریفین میں داخل ہو سکیں گے، حرمین شریفین میں ماسک اور عمرہ ٹریکنگ ایپ کا استعمال لازمی قرار دے دیا ہے۔نئے احکامات کے بعد سماجی فاصلے کے لیے لگائے گئے نشانات بھی ہٹادیئے گئے ہیں۔

مسجد الحرام میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ کے بعد آج فجر کی نماز سماجی فاصلے کے بغیر ادا کی گئی ہے۔ سبق ویب سائٹ کے مطابق مسجد الحرام کے زائرین نے فجر کی نماز کے امام کو تکبیرہ اولی کہنے سے پہلے ’استووا، اقیموا صفوفکم، تراصوا‘ کہتے ہوئے سنا گیا۔یہ وہ الفاظ ہیں جن کے ذریعہ امام نمازوں کو صفیں سیدھی کرنے، کندھے سے کندھا ملانے اور درست طریقہ سے کھڑے ہونے کی ہدایت کرتا ہے۔

خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے گرد لگائے گئے بیریئرز بھی ہٹاتے ہوئے۔

سعودی حکومت کے ایس او پیز میں نرمی کے فیصلے کے بعد حرمین شریفین میں زائرین کی پوری گنجائش کے علاوہ سماجی فاصلہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔مسجد الحرام کے انتظامی امور کے قائم مقام سکریٹری ڈاکٹر سعد بن محمد المحیمید نے کہا ہے کہ ’اتوار سے مسجد الحرام میں عمرہ زائرین اور نمازیوں کے لیے مکمل گنجائش کی اجازت ملنے کے بعد تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں‘۔

ڈاکٹر المحیمید کا مزید کہنا تھا کہ ’وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان پرعمل کرتے ہوئے مسجد الحرام میں زائرین کے لیے گنجائش کی انتہائی حد بحال کر دی گئی ہے‘۔’تمام احتیاطی تدابیر پر بھی عمل کیا جا رہا ہے تاکہ کورونا سے محفوظ رہتے ہوئے زائرین اور نماز باجماعت کے لیے آنے والوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جاسکے‘۔’

حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے مسجد الحرام کی انتظامیہ نے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کو بھی تعیناتی کے احکامات صادر کردیئے گئے ہیں تاکہ زائرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جاسکے‘۔انہو ں نے مسجد الحرام آنے والے عمرہ زائرین اور نمازیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے مزید کہا کہ ’مسجد الحرام میں موجودگی کے دوران جاری ہدایات پرمکمل طورپر عمل کریں اور عمرہ و نمازوں کی ادائیگی کے لیے آنے سے قبل اعتمرنا یا توکلنا پرپیشگی وقت ضرور حاصل کریں، علاوہ ازیں مسجد میں موجودگی کے دوران ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں‘۔

اس سے قبل مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ سے سماجی فاصلے کے لیے لگائی گئی علامتیں ہٹائی گئی تھیں۔ کل شب حرمین شریفین کی انتظامیہ نے خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے گرد لگائے گئے بیریئرز بھی ہٹادیئے۔علاوہ ازیں حرمین شریفن کے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر مسجد الحرام میں خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے گرد لگے بیریئر ہٹائے جانے کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔ ان ویڈیوز میں ڈیڑھ برس سے زائد عرصہ تک موجود رہنے والے بیریئرز ہٹانے کے بعد زائرین کو خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے انتہائی قریب سے طواف کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

سعودی عرب میں کورونا سے متعلق پابندیاں کو ڈیڑھ برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد آج (17 اکتوبر کی) صبح مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں سماجی فاصلے کے بغیر نماز ادا کی گئی۔ ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا کہ فجر کی نماز کے دوران سماجی فاصلے کے بغیر نماز ادا کی گئی، اس حوالے سے پابندیاں ختم کردی گئیں اور مسجد الحرام کو مکمل گنجائش کے ساتھ کھول دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مارچ 2020 میں سعودی عرب نے ابتدائی طور پر مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں نمازِ عشا کے ایک گھنٹے بعد سے نمازِ فجر سے ایک گھنٹہ قبل تک روزانہ بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔بعد ازاں 21 مارچ کو سعودی عرب کے حکام نے کورونا وائرس کے باعث جمعہ اور پانچوں وقت کی نماز میں مسجدوں میں تعداد کم کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے مسجد نبوی سمیت دیگر مساجد کے دروازے عام نمازیوں کے لیے بند کردیے تھے۔اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ’40 سال میں پہلی مرتبہ عمرہ کو روک دیا گیا، سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں تمام مساجد نماز کے لیے مکمل طور پر بند کردی گئی ہیں ‘۔

ذریعہ
اینجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.