کراؤن پرنس محمد بن سلمان، شاہ عبداللہ کو قتل کرنا چاہتے تھے : سابق سعودی عہدیدار

سعدالجابری نے انٹرویو میں پرنس محمد بن سلمان کو خبردار کیا کہ اس کے پاس ایک ویڈیو ہے جس میں مزید شاہی راز اور امریکہ کے سبھی راز موجود ہیں۔

دُبئی: ایک سابق سینئر سعودی عہدیدار نے جس نے انسدادِ دہشت گردی کی مشترکہ کوششوں میں امریکہ کا ہاتھ بٹایا تھا‘ ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ مملکت کے کراؤن پرنس(ولی عہد) نے اپنے باپ کی تخت نشینی سے قبل اس وقت کے سعودی شاہ کو ہلاک کردینے کی بات کی تھی۔

سعدالجابری نے سی بی ایس نیوز پروگرام ”60 منٹس“ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔

سابق انٹلیجنس عہدیدار نے جو کینیڈا میں جلاوطن ہے، دعویٰ کیا کہ 2014 میں پرنس محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ وہ شاہ عبداللہ کو ہلاک کرسکتا ہے۔ اس وقت پرنس محمد بن سلمان کا حکومت میں کوئی سینئر رول نہیں تھا لیکن وہ اپنے والد کے دربار ِ شاہی کا نگراں ضرور تھا جو اس وقت ولی عہد تھے۔

شاہ سلمان نے اپنے سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد جنوری 2015میں تخت و تاج سنبھالا تھا۔

سعدالجابری نے انٹرویو میں پرنس محمد بن سلمان کو خبردار کیا کہ اس کے پاس ایک ویڈیو ہے جس میں مزید شاہی راز اور امریکہ کے سبھی راز موجود ہیں۔ 60منٹس کے کرسپانڈنٹ کو ایک مختصر خاموش کلپ دکھایا گیا جو سعدالجابری کو ہلاک کیا گیا تو جاری کردیا جائے گا۔

سعدالجابری کے الزامات 36 سالہ کراؤن پرنس پر دباؤ ڈالنے کی تازہ کوششیں ہیں۔ سعدالجابری کے 2 بالغ بچے‘ سعودی عرب کی تحویل میں ہیں تاکہ ان کے باپ کو سعودی عرب لوٹنے پر مجبور کیا جائے۔

سعودی عرب واپس ہونے پر سعدالجابری کو ان کے سابق باس کسی وقت کے طاقتور وزیر داخلہ پرنس محمد بن نائف کی طرح گرفتار کرلیا جائے گا یا نظربند کردیا جائے گا۔ موجودہ کراؤن پرنس نے پرنس محمد بن نائف کو 2017 میں جانشین کی صف سے ہٹادیا تھا۔

62 سالہ سعدالجابری کا دعویٰ ہے کہ کراؤن پرنس ان کے مرنے تک چین سے نہیں بیٹھے گا کیونکہ وہ ان کے پاس موجود جانکاری سے ڈرتا ہے۔ انہوں نے پرنس محمد بن سلمان کو ”سائیکو پاتھ کِلّر“ قراردیا۔

کراؤن پرنس کے خلاف اس وقت عالمی برہمی پیدا ہوئی تھی جب یہ پتہ چلا تھاکہ اکتوبر 2018 میں ترکی کے سعودی قونصل خانہ میں سعودی ناقد جمال خشوگی کو پرنس محمد بن سلمان کے ساتھ کام کرنے والوں نے مارڈالا۔

کراؤن پرنس نے اس کارروائی کی جانکاری ہونے سے انکار کیا تھا حالانکہ امریکی انٹلیجنس رپورٹ کچھ اور کہہ رہی تھی۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.