آسٹریلیا نے حزب اللہ کو دہشت گرد قراردے دیا

مئی میں امریکہ نے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں۔ آسٹریلیا نے گلوبل نیو نازی گروپ کو بھی دہشت گرد تنظیم قراردیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت‘ تشددکو بالکل برداشت نہیں کرتی چاہے اس کی وجہ مذہبی ہو یا نظریاتی۔

سڈنی: آسٹریلیا نے چہارشنبہ کے دن حزب اللہ کو ”دہشت گرد تنظیم“قراردے دیا۔ اس نے مسلح یونٹس پر پہلے سے عائد امتناع کو پوری تحریک تک توسیع دے دی۔ ایران کا لبنان پر خاصہ اثر و رسوخ ہے۔ وزیر داخلہ اینڈریوز نے کہا کہ ایران نواز شیعہ گروپ سے دہشت گرد حملوں اور دہشت گرد تنظیموں کو مدد فراہم کرنے کا خطرہ برقرار ہے۔ وہ آسٹریلیا کے لئے ”حقیقی“ خطرہ ہے۔ حزب اللہ اپنی آسان تشریح سیاسی جماعت کے حصہ کے طورپر کام کرنے‘ جزوی مسلح گروپ اور لبنان کی شیعہ اقلیت کو بنیادی خدمات فراہم کرنے والے جزوی ادارہ کے طورپر کرتی ہے۔

 اس نے اسرائیل پر کئی حملوں کی ذمہ داری لی ہے۔ اس نے 1990 میں ملک کی تباہ کن خانہ جنگی کے اختتام کے بعد سے غیرمسلح ہونے سے انکار کردیا ہے۔بعض ممالک‘ حزب اللہ کے سیاسی اور عسکریت پسند دھڑوں میں فرق کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ مکمل امتناع سے لبنان عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا اور حکام کے ساتھ روابط ٹوٹ جائیں گے۔ آسٹریلیا نے 2003 سے حزب اللہ کی نام نہاد خارجہ سیکوریٹی تنظیم کو ممنوع قراردے رکھا ہے۔ اب سے پوری تنظیم کی رکنیت یا اسے فنڈنگ دینے پر آسٹریلیا میں ممانعت ہوگی۔ آسٹریلیا میں لبنانی کمیونٹی کی بڑی تعداد بستی ہے۔

مئی میں امریکہ نے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کریں۔آسٹریلیا نے گلوبل نیو نازی گروپ کو بھی دہشت گرد تنظیم قراردیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت‘ تشددکو بالکل برداشت نہیں کرتی چاہے اس کی وجہ مذہبی ہو یا نظریاتی۔ بے قصور لوگوں کی ہلاکت کو کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن(اے بی سی) کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی ڈومیسٹک انٹلیجنس ایجنسی کو دایاں بازو کی انتہاپسندی اور غلبہ چاہنے والے سفید فاموں کے تعلق سے تشویش ہے۔امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ‘ قطر کے اشتراک سے حزب اللہ کے خلیج کے خطہ میں مقیم کئی مبینہ فینانسرس پر تحدیدات عائد کرچکی ہے۔

 امریکی محکمہ خزانہ نے چہارشنبہ کے دن حزب اللہ کے فینانشیل نیٹ ورک پر تحدیدات کا اعلان کیا۔ اس نے 7 شہریوں کو نشانہ بنایا ہے جو قطر‘ بحرین‘ سعودی عرب اور فلسطین کے رہنے والے ہیں۔ اس نے ایک رئیل اسٹیٹ فرم پر بھی پابندی عائد کی ہے جو حزب اللہ اور اس سے جڑے اداروں کو کئی ملین ڈالر فراہم کرتی ہے۔ ان میں علی البنائی‘ علی لاری اور عبدالمعید اور قطر کی الدار پراپرٹیز شامل ہیں۔

ذریعہ
اے ایف پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.