سوڈان میں فوجی بغاوت، ایمرجنسی نافذ

ٹی وی پر خطاب میں جنرل عبدالفتاح البرہان نے اعلان کیا کہ وہ ملک کی برسراقتدار خودمختار کونسل اور وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت تحلیل کررہے ہیں۔

قاہرہ: سوڈان کے سرکردہ جنرل نے پیر کے دن ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ چند گھنٹے قبل ان کی فورسس نے کارگزار وزیراعظم کو گرفتار کرلیا اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔ سیویلین قیادت کو اقتدار کی پہلے سے طئے منتقلی سے قبل ملک میں بغاوت ہوئی ہے۔

ٹی وی پر خطاب میں جنرل عبدالفتاح البرہان نے اعلان کیا کہ وہ ملک کی برسراقتدار خودمختار کونسل اور وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت تحلیل کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی دھڑوں کی آپسی لڑائیوں نے فوج کو مداخلت پر مجبور کیا لیکن وہ وعدہ کرتے ہیں کہ ملک میں اقتدار کی جمہوری منتقلی کا عمل مکمل ضرور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک نئی ٹیکنوکریٹ حکومت‘ سوڈان میں الیکشن کرائے گی۔

فوجی قبضہ کے خلاف دارالحکومت خرطوم میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ آن لائن پر شیر فوٹیج میں احتجاجیوں کو سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑے کرتے اور ٹائر جلاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ سیکوریٹی فورسس نے مظاہرین کو منتشر کرنے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

احتجاجیوں کو ”عوام زیادہ مضبوط ہیں“ اور ”پسپائی آپشن نہیں“ کے نعرے لگاتے سنا گیا۔ فضا میں دھواں ہی دھواں تھا۔ سوشیل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ لوگ ہجوم در ہجوم دریائے نیل پر بنے پل پار کررہے ہیں۔ کم ازکم 12 مظاہرین زخمی ہوئے۔ سوڈان کی ڈاکٹرس کمیٹی نے یہ بات بتائی۔

فوجی کنٹرول سوڈان کے لئے ایک بڑا دھکا ہوگا جہاں 2 سال قبل عمر حسن احمدالبشیر کی حکومت کا تختہ پلٹے جانے کے بعد سے جمہوریت کی طرف منتقلی کا عمل رک رک کر آگے بڑھ رہا تھا۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.