امریکی ایرفورس میں خواتین پر ذہنی و جسمانی تشدد کے واقعات

بیشتر افراد نے کہا کہ انہوں نے ان واقعات کے بارے میں کبھی اپنے کمانڈرس یا نفاذ قانون ایجنسیوں کو اطلاع نہیں دی۔ بیشتر افراد کا ماننا تھا کہ اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔

واشنگٹن: ایرفورس اور خلائی فورس کے زائد از نصف ارکان عملہ جنہوں نے ایک سروے میں حصہ لیاہے کہا کہ دو سال کے دوران انہیں کسی نہ کسی قسم کی ذہنی یا جسمانی ہراسانی کا سامنا کرناپڑاہے۔ انہیں کام کے مقام پر ہراساں کیاگیا اور عصمت ریزی یا قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی۔

سروے میں تقریباً 68 ہزار سرگرم ارکان عملہ، ریزرو ارکان عملہ اور عام شہریوں نے حصہ لیا جن میں دو تہائی خواتین اور 48 فیصد مردوں نے ایرفورس میں پیش آئے واقعات کو بین شخصی تشدد قرار دیا۔

بیشتر افراد نے کہا کہ انہوں نے ان واقعات کے بارے میں کبھی اپنے کمانڈرس یا نفاذ قانون ایجنسیوں کو اطلاع نہیں دی۔ بیشتر افراد کا ماننا تھا کہ اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔

فوج میں تشدد اور ہراسانی کے مسائل، سرویس ریویو کو اجاگر کرنے والی محکمہ دفاع کی یہ تازہ ترین رپورٹ ہے۔ سینئر عہدیداروں کا کہناہے کہ ارکان عملہ اور ملک کے عام شہریوں پر تشدد کی شرح کاتقابل کرنا دشوار ہے لیکن فوجیوں کے خلاف اعلی سطحی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

ایرفورس ملٹری اور سیویلین ارکان عملہ کے منجملہ صرف 10 فیصد نے اس سروے میں حصہ لیا۔ لہذا یہ اعداد و شمار تشدد کی حقیقی سطح کو ظاہر نہیں کرتے۔ ایرفورس سکریٹری فرینک کینڈل نے کہا ہے کہ تشدد کی اطلاع دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے کیونکہ ایسے واقعات سے گذرنے والے افراد اس سروے کو پورا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرفورس کو اس مسئلہ کی یکسوئی کرنی چاہئے۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.