امریکی شہر وسکونسن میں کرسمس پریڈ کے موقع پر گاڑی چڑھادی گئی

خبر رساں اداہ اے پی کے مطابق محکمہ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعہ کے نتیجہ میں 5 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وسکونسن (امریکہ): امریکہ کی ریاست وسکونسن کے شہر ملواکی کے علاقہ واکیشا میں اتوار کو کرسمس پریڈ کے دوران ایک تیز رفتار گاڑی نے شرکاء کو کچل دیا جس کے نتیجہ میں 5 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو گئے۔

واکیشا کے پولیس چیف ڈین تھامسن کے مطابق کرسمس پریڈ کے دوران ایک ایس یو وی گاڑی بچوں سمیت کم از کم 40 افراد پر چڑھ دوڑی۔ ان کے بقول واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جب کہ مشتبہ گاڑی اور شخص کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

خبر رساں اداہ اے پی کے مطابق محکمہ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اس واقعہ کے نتیجہ میں 5 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک فیس بک پوسٹ میں پولیس نے کہا کہ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

حکام نے ابھی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ آیا اس واقعے کا تعلق دہشت گردی سے ہے۔امریکہ کے صدر جو بائیڈن کو اس واقعہ کے بارے میں واقف کرا دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ریاست وسکونسن اور مقامی حکومت کی مدد کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔ایک عینی شاہد نے ملواکی کے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ایس یو وی گاڑی جب پریڈ کے شرکاء سے آکر ٹکرائی تو اس کی رفتار 64 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

پریڈ کے شرکاء کے لیے یہ ایک خوف ناک منظر تھا جسے براہِ راست نشریات میں دیکھا گیا جب کہ ارد گرد کھڑے لوگوں نے بھی اسے ریکارڈ کیا۔قبل ازیں پولیس چیف نے بتایا تھا کہ اس ضمن میں ایک شخص کو تحویل میں لیا گیا ہے لیکن پولیس نے واقعہ کے درپردہ محرکات سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

واقعے کی سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی اس وقت سینٹا کلاز کے ہیٹ پہنی لڑکیوں کے ایک گروپ سے ٹکرائی جب وہ سفید پومپوز لیے رقص کر رہی تھیں۔

اس منظر کو دیکھ کر ایک خاتون نے چلا کر کہا او میرے خدا، او میرے خدا۔ایک عینی شاہد خاتون نے ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ ان لڑکیوں کی عمریں نو سے پندرہ سال تک بتائی جاتی ہیں۔واکیشا کے میئر شان رائیلی نے ملواکی شہر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے بعد عوام کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔ تاہم پولیس نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ وسطی علاقے میں جانے سے گریز کریں۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.