امریکی صدر کا پولیس کو مزید مراعات دینے کاعزم : جوبائیڈن

کیپٹل ہل پر چالیسویں سالانہ نیشنل پیس آفیسرز میموریل سرویس میں 2019 اور 2020 کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے عہدیداروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جس میں صدر بائیڈن اور اْن کی اہلیہ جل بائیڈن نے بھی شرکت کی۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا کہ جاریہ سال 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر حملہ کے دوران پولیس عہدیداروں کے شاندار رول کی وجہ سے آج ملک میں جمہوریت برقرار ہے۔

کل کیپٹل ہل پر چالیسویں سالانہ نیشنل پیس آفیسرز میموریل سرویس میں 2019 اور 2020 کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے عہدیداروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جس میں صدر بائیڈن اور اْن کی اہلیہ جل بائیڈن نے بھی شرکت کی۔

عین اْس مقام پر جہاں سے مشتعل ہجوم کیپٹل ہل میں داخل ہوا تھا، خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ "نو ماہ قبل آپ کے بہن اور بھائیوں (پولیس عہدیداروں) نے ایک غیر آئینی اور ہماری قوم کے اقدار، ان کے ووٹ پر ایک غیر امریکی حملے کو ناکام بنایا۔

آپ کی وجہ سے جمہوریت برقرار رہی ورنہ ہم ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتے تھے۔واضح رہے کہ 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر مشتعل ہجوم نے اس وقت دھاوا بول دیا تھا جب امریکی کانگریس کے اراکین نو منتخب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لیے جمع تھے۔

اْس وقت کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اْنہوں نے اپنے حامیوں کو کیپٹل ہل پر حملے کے لیے اْکسایا۔صدر کے خطاب کے دوران کیپٹل ہل کے احاطہ میں سینکڑوں پولیس عہدیدار اور اْن کے اہلِ خانہ موجود تھے۔

ان میں سے بعض اس وقت اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھتے دکھائی دیئے جب صدر نے اپنے ذاتی صدمات کا موازنہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ کیا۔

صدر بائیڈن نے اپنے خطاب کے دوران پولیس پر اضافی بوجھ کا بھی تذکرہ کیا اور پولیس کے فنڈس میں کٹوتی کے مطالبات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میرے سامنے جو لوگ بیٹھے ہیں انہیں مزید وسائل دیئے جائیں گے تاکہ یہ اپنا کام بہتر انداز سے کر سکیں۔

واضح رہے کہ مئی 2020 میں امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر میناپولس میں پولیس تحویل میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد پولیس کے بجٹ میں کمی کے مطالبات بھی سامنے آئے تھے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.