بائیڈن اور اشرف غنی کی آخری ٹیلی فونک بات چیت

جو بائیڈن نے اشرف غنی کو مشورہ دیا کہ وہ پیش قدمی کرنے والی فوجی حکمت عملی کے لیے طاقت ور افغانوں کو مجتمع کرنے کی کوشش کریں اور پھر اس کا انچارج ایک جنگجو کو بنائیں۔ ان کا اشارہ وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی کی جانب تھا۔

واشنگٹن: افغانستان کا کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں جانے سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن اور افغان ہم منصب اشرف غنی کے درمیان ایک آخری فون کال ہوئی تھی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس آخری کال میں دونوں رہنماؤں نے فوجی امداد، سیاسی حکمت عملی اور پیغام رسانی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا تھا۔اس گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ نہ تو جو بائیڈن اور نہ ہی اشرف غنی فوری طور پر کسی خطرے سے آگاہ یا اس کے لیے تیار نظر آئے، نہ وہ اس ٹیلی فونک گفتگو کے 23 دن بعد افغان حکومت کے انہدام کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ جو بائیڈن اور اشرف غنی نے 23 جولائی کو تقریباً 14 منٹ بات کی جب کہ 15 اگست کو اشرف غنی صدارتی محل چھوڑ کر نکل گئے جس کے بعد طالبان کابل میں داخل ہو گئے تھے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق جو بائیڈن نے کہا اگر آپ عوامی سطح پر یہ کہیں کہ آپ کے پاس افغانستان میں بگڑتی ہوئی صورت حال کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ ہے، اگر ہمیں اس منصوبے کا علم ہو تو ہم فضائی مدد فراہم کرتے رہیں گے۔

خیال رہے کہ اس فون کال سے کچھ دن قبل امریکہ نے افغان سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے فضائی حملے کیے تھے جس پر طالبان نے کہا تھا کہ یہ اقدام دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

جو بائیڈن نے اشرف غنی کو مشورہ دیا کہ وہ پیش قدمی کرنے والی فوجی حکمت عملی کے لیے طاقت ور افغانوں کو مجتمع کرنے کی کوشش کریں اور پھر اس کا انچارج ایک جنگجو کو بنائیں۔ ان کا اشارہ وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی کی جانب تھا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اب افغان افواج کی برائی کرنے والے جو بائیڈن نے اس دن فون پر افغان مسلح افواج کی تعریف کی تھی، انھوں نے کہا آپ کے پاس بہترین فوج ہے، آپ کے پاس ستر اسی ہزار کے مقابلے کے لیے تین لاکھ افراد پر مشتمل اچھی مسلح فوج ہے اور وہ بہتر انداز میں لڑنے کے قابل ہے۔

بائیڈن نے کہا دنیا بھر اور افغانستان کے کچھ حصوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ طالبان کے خلاف جنگ کے حوالے سے حالات ٹھیک نہیں ہیں، یہ تاثر حقیقت پر مبنی ہو یا نہیں، اس وقت ایک مختلف تصویر پیش کرنے کی ضرورت ہے، اگر افغانستان کی ممتاز سیاسی شخصیات ایک نئی عسکری حکمت عملی کی حمایت کرتے ہوئے ایک ساتھ پریس کانفرنس کریں گے تو اس سے یہ تاثر بدل جائے گا اور میرے خیال میں اس سے بہت زیادہ تبدیلی آئے گی۔

امریکی صدر نے افغان حکومت محفوظ رکھنے کے لیے سفارتی، سیاسی اور معاشی طور پر سخت لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا، جب کہ اشرف غنی نے طالبان کے حوالے سے ایک بار پاکستان پر الزام لگایا، تاہم واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے ان الزامات کی تردید کی ہے، وائٹ ہاؤس نے منگل کو اس کال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا تھا۔

یاد رہے کہ اشرف غنی کے بارے میں خیال یہ ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں، ان کا آخری بیان 18 اگست کو آیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ خونریزی روکنے کے لیے افغانستان سے فرار ہوئے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.