جوبائیڈن‘ 3.5 ٹریلین ڈالر منصوبہ کو منظور کروانے کیلئے اٹل

بائیڈن ہاوز ڈیموکریٹ کے ساتھ ایک خانگی میٹنگ میں آج شرکت کی جو جزوی طور پر ہدایاتی اور قانون سازوں کے مشکلات میں مبتلا گروپ کی حوصلہ افزائی ہے۔ انہوں نے قانون سازوں کو بتایا کہ وہ بلالحاظ مدت اس بلس کو پاس کرواناچاہتے ہیں۔

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے کیپٹل میں عہد کیا کہ وہ بل کو منظور کروائیں گے جبکہ ڈیموکریٹس ان کے حکومت کے 3.5 ٹریلین ڈالر کے تخفیف کردہ ماڈل کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں جو جائزہ اور اصلاح اور عوام سے متعلق کاموں کے تحفظ پر مبنی ہے جبکہ اس پر سرگرم مذاکرات ہوتے رہے لیکن اس وقت ایسا نہیں ہورہاہے۔

بائیڈن ہاوز ڈیموکریٹ کے ساتھ ایک خانگی میٹنگ میں آج شرکت کی جو جزوی طور پر ہدایاتی اور قانون سازوں کے مشکلات میں مبتلا گروپ کی حوصلہ افزائی ہے۔ انہوں نے قانون سازوں کو بتایا کہ وہ بلالحاظ مدت اس بلس کو پاس کرواناچاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے 1.9 ٹریلین ڈالر بل پر سمجھوتہ کیا تاکہ اس کے بڑے مسودہ کے لیے دو ٹریلین ڈالر منظور کرواسکیں۔ اس بات کااظہار قانون سازوں نے کیا۔

 تاہم یہ واضح ہے کہ قانون سازوں میں رسہ کشی ہوگی کیونکہ وائٹ ہاوز اور کانگریس میں اس کے حلیف طویل مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ بائیڈن نے کیپٹل میں دوپہر کو دیر گئے صحافیوں کو بتایا کہ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ وقت 6 منٹ‘6 دن‘ 6 ہفتے  ہو‘ انہوں نے کیپٹل میں دوپہر کے بعد میٹنگ کے بعد صحافیوں کو یہ بات بتائی۔ صدر اور پارٹی دونوں کے لیے یہ وقت بہت اہمیت رکھتاہے۔ جبکہ بائیڈن کی مقبولیت کی شرح میں کمی ہوئی ہے اور ڈیموکریٹس بے چین ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ بائیڈن کی جانب سے ملک کی دوبارہ تعمیر کی اہم مہم کے وعدہ کی تکمیل کریں۔

بائیڈن کے نظریات شاہراہ اور بریجس انفراسٹرکچر سے بڑھ کر ڈنٹل ویژن اور سینئر شہریوں کے لیے سماعتی دیکھ بھال ماقبل کنڈر گارڈن مفت تعلیم اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے بڑی کوششیں اور دیگر سرمایہ کاریاں جس سے سینکڑوں امریکیوں کی زندگی کو فائدہ پہنچے۔ بائیڈن اچانک کیپٹل ہل پہنچ گئے جس کامقصد مسودہ قانون کو آگے بڑھاتے ہوئے تکمیل تک پہنچاناہے۔ اسپیکر نینسی پیلسی نے کل دیر گئے مکتوب میں اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ایک اجمالی سمجھوتہ کے بغیر جمعہ کو عوامی سرگرمیوں کے بل پر رائے دہی مسدود رہی ہے جبکہ مستقل طور پر قانون ساز اس کی اہمیت نہیں کررہے ہیں۔

یہ اس وقت تک رہے گا جب تک سنیٹر سمجھوتہ پر نہ پہنچیں۔ اس کے بجائے ایوان میں 30 روزہ عبوری اقدام منظور کیاگیا تاکہ حمل و نقل پروگرام تعطل کے دوران جاری رہیں جس سے مذاکرات کے لیے ایک نئی تاریخ کا 31 اکتوبر کا تعین ہواہے۔ سنیٹ نے رائے دہی آج ہوگی تاکہ 3500 سے زائد وفاقی ٹرانسپورٹیشن ورکرس کی رخصت کو روکاجائے جو سیاسی تعطل کا نتیجہ ہے۔

ذریعہ
اے پی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.