خطرات میں گھرا ہندوستان: راہول گاندھی

ڈاکٹر اقبال احمد انجینئر

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
کرناٹک کی بیٹی مسکان خان نے اس شعر کو نئی حیات دی ہے۔ مثال بنی ہے۔ حوصلہ دیا ہے۔ سلام ہو اس پر ’’ اللہ اکبر‘‘ جب نہ صرف ہندوستان بلکہ کئی مسلم ملکوں کا ٹرینڈ بن جائے اور سوشیل میڈیا پر ملک ظلم کی قیادت کرنے والا دکھایا جائے تو دکھ ہوتا ہے۔ مسکان خان بنت محمد حسین نے تنہا جرأت نسواں کی تاریخ لکھ دی۔ طاغوت کو سبق دیا کہ ایک لڑکی بھی اقلیت میں نہیں ہوتی بلکہ غیر مندوں کو بھی یاددلایا کہ جس کے ساتھ اللہ ہو وہ کبھی اقلیت میں نہیں ہوتا۔ ایمان و یقین اور بے خوفی کا یہ مظاہرہ حق و باطل معرکہ میں وہ ہتھیار ہے جو حوصلہ دیتا ہے ۔ سلام ہے امت کی اس بیٹی پر جس نے امت کو حکمت کے نام پر بزدلی سکھانے والوں کے منہ پر طمانچہ لگایا ہے؟ کیا یہ واقعہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دے گا۔ اس ملک میں مسلمان برابر کا شہری اور حصہ دار ہے اور اکثریت کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ دستوری ضمانتوں اور بنیادی حقوق پر زندہ ہے۔ اسے اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی ہے اور اس کی تبلیغ کی بھی اجازت ہے ۔ جمہوری طریقے اور پرامن وسائل کو اختیار کرنا ہر شہری کا حق ہے اور مذہب اسلام کے متعلق اٹھے ہر سوال کا جواب دینے کے عملی طریقے سے استفادہ اس وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب سائل سننے کو تیار ہے لیکن اس کا منصوبہ یہ ہو کہ اسلام کو اپنے نظریہ میں ضم کرلے اور تہذیب اسلامی کو ختم کرکے مٹادے تو پھر سامنے آئے بغیر تحفظ و شناخت کیسے باقی رہے گی۔ مسکان خان کو جمعیت علماء نے پانچ لاکھ کا انعام دے کر اس کی جرأت مندی کو سراہا ہے اور ضرور طلباء میں مقابلہ کرنے کی ہمت کو بڑھایا ہے ۔ لیکن اس انعام سے زیادہ جو اس لڑکی نے مظلوموں اور خاص کر مسلمانوں کے اکابرین و عوام و خواص کو بتایا ہے کہ جب عورت کی عصمت و عفت اور سر سے چادر کھینچی جائے تو غیر انسانی مطالبہ کیا ہے؟ یہ تو آج کے ماحول میں سارے مظلوموں کی استاد‘ سبق دینے والی بن گئی۔ سلام ہے اس پر کیوں کہ ہندوستان ہمہ تہذیبی سماج کے تحفظ کے لئے اس کا یہ اقدام سیاستدانوں‘ صحافیوں ‘ اداروں اور عدلیہ کے لئے بڑی آزمائش بن گیا ہے۔ کیا قانون چلے گا یا یہاں بھی آستھا کا فیصلہ ہوگا۔ امن کے نام پر ناانصافی دہرائی جائے گی۔ اگر ادارے ‘ نظریات سے زیادہ دستور کو ترجیح دیں گے تو ہی امن قائم ہوگا ورنہ نصیر ا لدین شاہ کے مطابق حالات ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ یہ فیصلہ کیا راستہ چنے گا معلوم ہوجائے گا۔
یہ ملک اندرون اور بیرونی خطرات میں گھرا ہے‘ راہول گاندھی نے مودی حکومت کو صلاح بھی دی اور عوام کو انتباہ بھی دیا ۔ بھاجپا کا اقتدار کا راستہ یہی ہے۔ وزیراعظم ہمیشہ انتخابی موڈ میں ہوتے ہیں کیا وہ وزیراعظم بھی ہوتے ہیں۔ راہول کا یہ سوال کب ہضم ہوگا۔ خارجی امور میں شکست در شکست کی تاریخ رقم کی جارہی ہے۔ وزارت خارجہ کو بھرم تھا کہ سیکورٹی کونسل میں یوکرین کے متعلق روس کے خلاف ووٹنگ میں غیر حاضر رہ کر کمال کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ روس کے ساتھ صرف چین کھڑا تھا۔ ہندوستان کا یہ فیصلہ روس کو پسند نہیں آیا۔ روس نے اب پاکستان کے وزیراعظم کو دورہ کی دعوت دے کر اس خطے کی سیاست میں ہندوستان کو تنہا کردیا ہے۔ روس کے ڈیجیٹل میڈیا نے کشمیر کو مستقبل کا فلسطین بتاکر جو روسی تبدیلی کا اشارہ دیا ہے اس سے پڑوس اور سرحدوں پر خطرات میں ا ضافہ ہوا۔ جرمنی بھی امریکہ سے دوری اور روس کی قربت کا عندیہ دیا ہے۔ عمران خان کا دورہ روس میں چین‘ روس‘ پاکستان‘ ایران ‘ ترکی اتحاد کو قطعیت دی جائے گی اور افغانستان کے وسائل سے اس کے معدنی ذخائر کو قابل استعمال بنایا جائے گا اور امریکہ اس خطے سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہوگا۔ پاکستان کو قابو میں رکھنے کے لئے بلوچستان کاکارڈ اب نہیں چلے گا۔ پاکستانی معیشت چین اور روس کے اشتراک سے ترقی کی چھلانگ لگاسکتی ہے اور ہندوستانی سرحدوں پر اشتعال پیدا ہوگا۔ اورناچل پردیش پر چین کا دعویٰ اور کشمیر کے مسائل کیا ان خارجی خطرات سے مودی حکومت مقابلہ کرسکتی ہے‘ راہول گاندھی کے اندیشوں کو جب حقیقت کے آئینے میں دیکھا جاتاہے بحیثیت ہندوستانی اکثر پریشان ہیں۔ نظریاتی جنگ میں الجھا ہندوستان جو سماجی تصادم میں اقتدار کی تائید یا خاموشی میں مصروف کار ہے تو اسے سرحدوں اور پڑوس میں ہونے والی تبدیلیوں کا وقت کتنا ملے گا! اور کیا طریقہ سدباب ہوگا! خارجی امور یوں بدل رہے ہیں‘ روس بھی ساتھ چھوڑنے کو تیار ہے۔ ہندوستان‘ امریکی ڈوبتی کشتی کا سوار ہے۔ اندرون ملک اگر اترپردیش سے بھاجپا اقتدار جاتا ہے تو ملک کے اندرونی حالات کرناٹک سے بدتر ہوسکتے ہیں تحریک تشکر پر وزیراعظم کی تقریر سے اندازہ ہوتا ہے ’’ کانگریس ٹکڑے ٹکڑے گینک کی تائید ملک کی تقسیم کی ذمہ دار اور اب درپے ہے کہ ملک دوبارہ تقسیم ہوجائے‘ایمرجنسی اور ملک کی معیشت کو تباہ کرنے والی وزیراعظم نے کانگریس کا نیا تعارف کروایا۔ ایک گھنٹہ چالیس منٹ اور پچیس سکنڈ کی طویل تقریر میں حزب مخالف کی تنقید پر چراغ پا ‘ پہلی مرتبہ بہت غصے میں نظر آئے۔ الفاظ کے خرچ میں احتیاط‘ لہجے میں توازن‘ جسمانی زبان اعتماد اس کرسی و منصب کے لوازم ہیں وہ اس وقت رخصت ہوگئے۔ کانگریس کا خوف جھلک رہا تھا۔ راہول گاندھی سے مقابلہ میں حوصلے کی کمی کا احساس ہورہا تھا۔ اس وزیراعظم کے خطاب تشکر پر جو تبصرے مختلف حلقوں سے ہورہے ہیں‘ ان سب کا اتفاق ہے کہ یہ ’’ جھوٹ کا پلندہ‘‘ ہے۔ سوشیل میڈیا پر ہر ایک مثال(جھوٹ) پر عمل جراح جاری ہے۔ قومی میڈیا میں گودی میڈیا کی اکثریت کے اینکرس میں نہ تو دفاع یا جارحیت کا کوئی جذبہ تھا اور نہ ہی بھاجپا ترجمانوں میں حوصلہ۔ اس لئے موضوع بدل کر حجاب اور انتخابات پر مباحث ہونے لگے۔ اکثر دانشوروں ‘ مورخوں اور متوازن فکر کے صحافیوں کا تبصرہ تھا کہ ’’ وزیراعظم ذہنی دباؤ اور دفاعی موقف میں تھے‘ ان کی فطرت جارحانہ کمزور تھی‘‘ بعض تبصرہ نگار جو دیدہ دلیری اور جرأت سے کام لیتے ہیں ا نہوں نے کہا ’’ وزیراعظم کشش کھوچکے ہیں‘ آسمان سے پرتھوی کے سفر میں ہیں اور عرش سے فرش پر آرہے ہیں۔ کیا تاریخ سچ بول رہی ہے‘‘ ۔ ہر عروج زوال دیکھتا ہے۔
اس گھر واپسی (گجرات) کی رفتار کیا ہوگی ۔ اس پر شیوسینا کے سنجے راوت نے کہا کہ 2024ء میں مودی سرکار کا سورج غروب ہوگا۔ اترپردیش تو EVMs کا صحیح استعمال ہو تو اقتدار میں الٹ پھیر ہوسکتا ہے۔ مسلم ووٹس کی تقسیم کے لئے بھاجپا نے جو منصوبہ بندی کی تھی وہ بھی ناکام ہوگئی ہے۔ ڈرامہ رچایاجارہا ہے جو اس کا ثبوت ہے۔ سنجے راوت کے تبصرہ سے اتفاق نہیں ہے۔ مولانا سجاد نعمانی کا کھلا خط اور مولانا سلمان ندوی کی مکمل حمایت اور سیاست کے داؤ پیچ اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کا سلیقہ اور تجربہ‘ امید اور مجبوری کے اس سفر میں سیاسی اتحاد مسلم دلت کی بنیادیں ڈالی جاسکتی ہیں۔ آندھرا پردیش(غیر منقسم) میں غیر معلنہ اتحاد سیاسی‘ کانگریس سے چلتا رہا‘ کیا پھردہرایا نہیں جاسکتا۔ وامن مشرم کا ساتھ ‘ بابو سنگھ کشواہا چیف منسٹر امیدوار ایک شکل ضرور اختیار کرسکتی ہے ۔ بھاجپا کی اوچھی حرکت سے مہاراشٹرا میں حکومت گرانے کا دباؤ سنجے راوت پر بنایاجارہا ہے۔ ED کے استعمال پر لوک سبھا اسپیکر سے انہوں نے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔
شائد اترپردیش کا انتخاب ہو کہ اتراکھنڈ وزیراعظم کے ذہن سے چمٹ گیا ہے اس لئے انہوں نے تحریک تشکر پر جو جواب دیا وہ عوام کو متاثر نہ کرسکا۔ شاید اب ہندوستان کی تاریخ بدل رہی ہے۔ اس لئے راہول گاندھی(پپو) کی تقریر اس تحریک تشکر میں عوامی سطح پر بہت مقبول ہوئی۔ انہوں نے دل کی گہرائیوں سے نظریہ ہندوستان‘ کو مرکزی موضوع تقریر بناکر دستور ہند میں ہمہ تہذیبی سماج ‘ سیاست میں فیڈرل سسٹم اور عاملہ و انتظامیہ تعاون اور مشاورت کو لازمی قراردیا۔ ملک یونین آف ا سٹیٹس کی دستوری زبان سے قائم ہے لیکن اسے ایک قوم‘ ایک قومیت اور ایک قومی راشٹریہ (ہندو راشٹریہ) بنانے کی مودی حکومت کو سخت نشانہ بنایا۔ ساری تہذیبوں کو ایک ہندتو تہذیب میں ضم کرلینے کی ہندتو وادی کوششوں اور فیصلوں کی سخت مخالفت اور رد کرتے ہوئے ملک کو سنگین خطرہ بتایا۔ حجاب کے نام پر کرناٹک میں ‘ ملک کی بیٹی مسکان خان کا حوصلہ اور ممکنہ تصادم‘ اس راہول گاندہی کے اندیشوں کی مثال بن گئی ہے۔ ہندو اور ہندتووادی کے فرق کو واضح کرنے کا فیصلہ جو انہوں نے جئے پور راجستھان میں کیا تھا اور اسے عوام سے روشناس کروانے کا جو بیڑہ اٹھایا اس کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی جان بھی قرب ان کرنے کی بات کہی اور پنڈت نہرو کی15سال کی جیل کی صعوبتیں ‘ اندراگاندھی پر گولیوں کی بوچھار ‘ اپنے باپ راجیو گاندھی کا دھماکہ میں اڑجانا کو یاددلایا اور بھاجپا سے پوچھا دیش کے لئے ان کی قربانیاں کیاں ہیں؟ فرقہ واریت پر اقتدار کا حصول نظریاتی تسلط سے مذاہب اور دیگر تہذیبوں کو ضم کرنے کا فیصلہ اندرون خطرہ پیدا کرچکا ہے۔ راہول گاندھی نے انتباہ دیا کہ اقتدار کی یہ نظریاتی مرکوز قیادت نے ہندوستان کو معاشی طور پر امیر ہندوستان اور غریب ہندوستان میں تقسیم کردیا ہے۔ ساری دولت امبانی اور اڈانی جیسے چند افراد کے پاس گجرات میں جاچکی ہے اور شہنشاہیت قائم ہوچکی ہے۔ جس میں صرف حکم چلے گا۔ تعاون اور مشاورت کی کوئی جگہ نہیں ہوگی ۔ راہول کے اندیشے اندرونی و بیرونی خطرات سچ ثابت ہورہے ہیں۔
وزیراعظم نے نظریات پر مبنی جواب دیا۔ راہول گاندھی کی تعریف ملک ‘ دستوری سیکولرازم کے جواب میں وزیراعظم نے بتایا اس ملک کی روح’’ وشنوپراناس‘‘ کے مطابق ایک نظریہ اور مذہب پر مبنی ہے۔ ہزار سال کی تاریخی مثال دے کر بتایا کہ یہاں ہندتو وادی راج چل رہا تھا۔ دستوری ملک یونین آف اسٹیٹس سماج ‘ ہمہ تہذیبی شناخت کی تائید کرنے والی کانگریس اور اس جیسی جماعتوں کو ٹکڑے ٹکڑے گینک اور کانگریس کو اس کا قائد بتایا۔ راہول کو ووٹ دینا یا سیکولر کو ووٹ دینا ملک کو پھر سے تقسیم کرنے کا عمل ہے۔ کیا یہ وزیراعظم کا جواب ہونا چاہیے تھا؟
راہول گاندھی نے مودی حکومت کو مشورہ یا انتباہ دیا کہ لفظ ہندو کے معنی سناتن دھرم میں موجود مختلف تہذیبوں‘ عقائد ‘ رسوم و رواج اور ان کی علاقائی شناخت کو برداشت کرنے کو اولیت دینے کو کہا کیوں کہ گپتا کے دور سے ہر اقتدار نے اس کا احترام کیا ہے لیکن وزیراعظم کب مشورہ قبول کرنے والے ہیں اور کیوں مخالفت کو موقع دینے والے ہیں‘ انہوں نے اس مفید مشورے کو مسترد کرتے ہوئے اس ملک کو راشٹریہ سے تعبیر کیا ہے جسے قانون ‘ نظام اور دستور سے نہیں جانا جاتا بلکہ اس کی روح (وشنوپراناس) ہوتی ہے اور لوگ اس سے جڑے ہوئے۔ باقی سب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ دھرم سنسد جو ہندومہاسبھا کے تحت چلائی جارہی مہم ہے کیا اس کی تائید ہورہی ہے؟ وزیراعظم کی تقریر سوشیل میڈیا پر تنقیدوں سے دہرائی جارہی ہے اور سوال دوبارہ تازہ ہورہا ہے کہ کیا ملک دستور سے چلے گا یا آستھا کا نظریہ ہندتو سے چلے گا۔
دستور کی روح تو اس کے دفعات ہمہ تہذیبی بقاء ‘ شناخت‘ طمانیت اور ضمانتوں میں پنہاں ہیں لیکن یہ ملک کب راشٹریہ بن گیا اور اس کی روح کب سے وشنو پراناس میں بس گئی ۔ شاید وزیراعظم ہی جانتے ہیں۔ امبیڈکر تو نا واقف تھے ۔ کیا جنوبی ہند کی تہذیب یا تہذیبوں کو رامانجو کے 216فٹ کے مجسمے سے فلسفہ شیشٹ ادوتیہ ‘ فلسفہ توحید‘ وحدت الوجود اور برہمن ازم کے اقتدار میں ضم کرلیا جائے گا اور یہ سب مسلم دشمنی میں اسے قبول کرلیں گے؟ کیا KCR اپنا اقتدار چھوڑ دیں گے؟ آندھرا ‘ کیرالا اور ٹاملناڈو برہمن راج اور ہندتو فلسفے میں ضم ہوں گے یا پھر علاقائی تصادم خود ہندو ازم میں رخنہ ڈال دے گا۔ حجاب جیسے شرعی مسائل اٹھا کر مسلمانوں کو خوف سے ہندو تہذیب میں ضم کرنے کی ہر کوشش پر کوئی نہ کوئی مسکان خان سامنے آئے گی۔ یہ خطرناک اقدام ہے۔ اس لئے راہول گاندھی نے واضح الاظ میں کہا ہے کہ ملک اندرونی اور بیرونی طور پر خطروں میں گھر گیا ہے۔ کیا وزیراعظم نے اس کا نوٹ لیا ؟ ایسا معلوم نہیں ہوتا۔ اب ایسے اور بھی واضح ہوگیا ہے اس دور اقتدار میں صدر جمہوریہ ہند کے خطبہ میں ضرور دستور اور جمہوریت اور نظریہ سیکولرازم نظر آئے گا لیکن عملی طور پر یہ راشٹریہ ہوگا جو آسھتا اور ہندو اتحاد کی ان جدید کوششوں سے ملک میں اپنا قانونی‘ ایک قوم‘ ایک زبان‘ ایک قومیت‘ ایک تہذیب اور ایک راشٹریہ پر چلے گا اور ادارے سب ایک مرکز کے تحت شہنشاہ کے حکم کے تابع ہوں گے۔ راہول گاندھی نے جو مشورہ بھاجپا کو دیا ہے وہ ایک انتباہ بن کر ملک کے ہمہ تہذیبی‘ علاقائی‘ لسانی اور تمدنی اکائیوں کے لئے بقاء اور شناخت کا معاملہ بن رہا ہے۔ 2024ء تک اس کا منظر نامہ کیا ہوگا؟ اس کی شکل اترپردیش کے انتخابی نتائج کے بعد واضح ہوگی۔ اگر اترپردیش میں اقتدار تبدیل ہوتا ہے تو ملک کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں رہیں گے۔
حیران رہ گئی دنیا جب وزیراعظم نے کووڈ کی پہلی لہر کا ذمہ دارکانگریس کو بتایا۔ ایک اچھی بات یہ رہی کہ تبلیغی جماعت پر لگایا گیا داغ دھل گیا۔ مگر کیا وزیراعظم بھول گئے کہ اچانک ملک بند کرنے اور چار گھنٹوں کی مہلت میں مزدوروں اور دیگر عام انسانوں کو جو مشکلات پیش آئیں ان کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا اس الزام سے بھاجپا اقتدار بچ سکتا ہے۔ قطعی نہیں کیوں کہ گونگے بھی اس کی گواہی زبانی دے سکتے ہیں۔ مہاراشٹرا کو نشانہ بناتے ہوئے کیوں کہ وہاں ان کی حکومت نہیں تھی اور وہاں سے کووڈ پھیلنے کے مراکز ہونے کا اعتراف وزیراعظم کرتے رہے اور مزدوروں اور دیگر پھنسے ہوئے افراد کی واپسی اترپردیش‘ بہار وغیرہ میں اس کووڈ کے پھیلاؤ کا ذمہ دار بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کانگریس کو ذمہ دار بتایا کہ وہ مفت میں ٹکٹ دے کر مزدوروں کو اترپردیش بھیجا اور گنگا میں تیرتی لاشوں کی بھی وہی اکیلی ذمہ دار ہے۔ آدتیہ ناتھ ٹھاکر تو بس معصوم ہیں اور اس قدرتی بلا کو ٹالنے کے لئے تالیاں بجائیں ‘ شنکھ پھونکا اور چراغ جلانے کے علاوہ کیا کرسکتے تھے۔ ا نہوں نے یہ کیا‘ اس لئے بھاجپا اس کی ذمہ دار نہیں ہے وہ تو بے بس و مجبور تھی ۔ کیا وزیراعظم یہ بھول گئے کہ ریل کس نے چلائی۔ 64لاکھ مزدوروں کو منتقل کرنے کا سہرا کس نے اپنے سر باندھا؟ 1000 بسیں چلانے کا دعویٰ ہریانہ کے چیف منسٹر نے کیا تھا ۔
وزیراعظم نے ہندوستانی معیشت کو کامیاب بتاتے ہوئے زور دیا کہ اس کووڈ کے زمانے میں بھی ترقی کرتی رہی حالانکہ صفر سے نیچے پہنچنے والی GDP اب بھی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ معاشی اعتبار سے کمزور ترین ملک معیشت کو سنبھالنے میں ہندوستان سے زیادہ کامیاب ہیں۔ بنگلہ دیش کی معیشت ہندوستان سے نسبتاً اچھی تھی اب پاکستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ٹکسٹائل کے موضٰع پر ہندوستان کی کمپنیوں نے جب میڈ ان انڈیا کے لئے اپنی معذوری ظاہر کی تو مغرب کے سارے کنٹراکٹ پاکستان کے پاس چلے گئے ہیں اور اس کی تجارت میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ اور ایک لاکھ پچاس کروڑ روپیہ کی اس تجارت نے پاکستانی معیشت کو تباہی سے بچالیا۔ باسمتی چاول میں بھی پاکستان نے ہندوستان کو نقصان پہنچایا۔ ہندوستان میں بنانے کا نعرہ بس نعرہ ہی رہا۔ فائدہ پڑوس اٹھارہے ہیں۔ راہول گاندھی نے بے روزگاری کی وجہ چھوٹی صنعتوں اور گھریلو صنعتوں کا کمزور یا بند ہونا اور نوٹ بندی کو بتایا تھا۔ اب وہ زہر قاتل بنی معیشت کو تباہ کررہی ہے۔ صرف چند بڑے امیر لوگوں کا یہ ہندوستان بن گیا ہے ۔ اور اکثر آبادی غریب یا غریب تر ہوچکی ہے۔ ہندوستان دو ہندوستانوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ راہول گاندھی پھر سچ نکلے۔ مودی جی پھنس گئے۔
وزیراعظم پر راہول گاندھی کا ایک بڑا الزام یہ رہا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی نے پاکستان اور چین کو قریب تر کردیا ہے اور چین و پاک اتحاد سے ملک کو بیرونی خطرہ ہوگیا جو پہلے کبھی نہیں تھا۔ اندراگاندھی نے پاکستان کو توڑ کر اور بنگلہ دیش بناکر جو سرحدی خطرہ تھا اسے ہمیشہ کے لئے ختم کردیا تھا اس مودی حکومت کی غلط خارجہ پالیسیوں نے چین اور پاکستان کو قریب کرکے سرحد پر مستقل خطرہ پیدا کردیا ہے اور ہماری زمینوں پر قبضہ کی تصاویر بھی شائع ہوئی ہیں۔ اس خطرے پر پریشان وزیراعظم چین کا نام نہیں لیتے اور جواب وزیر خارجہ کی طرف سے آیا کہ پاکستان اور چین کی قربتیں تو ایک عرصہ سے بڑھ رہی ہیں اور کانگریس کی حکومتوں میں بھی یہ جاری رہیں اور اب اگر اس میں اضافہ ہوا ہے تو بھاجپا کو الزام دینا درست نہیں ہے لیکن راہول گاندھی کے اس الزام کہ پڑوسیوں میں ہمارے حلیف کوئی نہیں اور بیرون ملک بھی ہماری تائید میں کوئی نہیں جس کی مثال یوم جمہوریہ پر کسی بھی غیر ملکی حاکموں کی عدم شرکت ہے۔ اگرچیکہ کووڈ اس کی وجہ بتائی گئی ہے لیکن دوبدو ملاقاتیں تو ہورہی ہیں ۔ ابھی چین میں ونٹر اولمپکس میں شرکت کے لئے صدر پوٹین ‘ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور دیگر ممالک کے نمائندے اور حکمران بھی شریک ہوئے۔ تعجب تو اس بات کا ہے کہ مغرب اور امریکہ کے بائیکاٹ کے باوجود چین سے تعلقات بحال رکھنے کے لئے ہندوستان نے اس کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ شرکت کے لئے تیار رہا لیکن چین نے اسے مدعو نہیں کیا۔ راہول گاندھی نے سچ نہیں کہا کہ چین کے ژی جنگ پنگ کے ساتھ جھولا جھلنے کے بعد ‘ گجرات میں سردار پٹیل کا مجسمہ کا کنٹراکٹ دینے کے باوجود چین سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ چین سے تجارت میں اضافہ اور توازن تجارت میں ہم اس سے بہت پیچھے ہیں اور مجبور ہیں اور کافی بڑی معیشت ہونے کے باوجود مغرب کا ساتھ دینے کی وجہ سے چین سے تعلقات ہمارے خراب سے خراب تر ہورہے ہیں۔ جب اولمپک مشعل گلوان میں زخمی ہونے والے چینی فوجی کے ہاتھ میں دے کر ہندوستان کو پیغام دیا کہ وہ ان علاقوں کو چھوڑنے والا نہیں ہے اور اروناچل پردیش پر اس کا دعویٰ برقرار ہے تو بھلا چین ‘ روس اور پاکستان اتحاد سے بیرونی اور سرحدی خطراب بڑھ چکے ہیں ۔ راہول گاندھی نے جو کہا کیا وہ سچ نہیں ہے؟
وزیراعظم پاکستان کے استقبال میں دیری اور صدر پوٹین کو چین نے ترجیح دے کر اپنی ترجیحات کو طے کیا تھا چین کے اس طریقہ کار پر ہندوستانی میڈیا بہت خوش ہوا اور خوب موضوع بھی بنایا۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کیوں پاکستان کے اطراف اب بھی گھومتی ہے اور نظریاتی ہندتو وادی مسلم دشمنی سے انتخاب جیتنے کے لئے کیوں ہندوستان کے مسلمانوںکو پاکستان سے جوڑتے ہیں یہ سمجھ سے باہر ہے۔ ہندوستان میں بڑی طاقت‘ پاکستان جیسے ناکام ملک کی سطح سے کیوں ابھر نہیں پارہی ہے اور بغلیں بجارہی تھی کہ چین کے صدر نے عمران خان سے ملاقات نہ کرکے کشمیر کو پاک ہند کا معاملہ قراردے کر ہندوستان کے ساتھ دروازے کھلے رکھے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا کی یہ خوش فہمی دوسرے ہی دن ختم ہوگئی جب چینی صدر اور عمران کے درمیان طویل ملاقات اور 33 نکاتی مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا چین اور پاکستان کے اس معاہدے نے وسطی ا یشیاء میں انقلابی تبدیلی کی شروعات کی ہے اور امریکہ اس علاقے سے بالکل ہی غائب ہوگیا ہے ۔ یہ ہندوستان کے لئے فکر مندی کی بات ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button