خفیہ جانکاری پاکستان بھیجنے والا فوجی گرفتار

جئے پور انٹلیجنس ٹیم نے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی۔ اس فوجی کو پیسہ کالالچ دے کر پھنسایا گیا تھا۔ 25 جولائی کو اسے حراست میں لے لیا گیا۔ جوائنٹ انکوائری سنٹر جئے پور میں مختلف انٹلیجنس ایجنسیوں نے ملزم جوان سے پوچھ تاچھ کی۔

جئے پور: مغربی بنگال کے رہنے والے 24 سالہ ہندوستانی فوجی شانتی مے  رانا کو خفیہ ویڈیوز اور دستاویز ایک خاتون ایجنٹ سے شیئر کرنے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے چہارشنبہ کے دن اس کی توثیق کی۔ سی آئی ڈی انٹلیجنس ٹیم نے ملزم کو گرفتار کرلیا اور توثیق کی کہ اس نے فوج کے اہم کاغذات سوشل میڈیا کے ذریعہ پاکستانی خاتون ایجنٹ سے شیئر کئے۔

 ڈائرکٹر جنرل انٹلیجنس اومیش مشرا نے کہا کہ راجستھان میں پاکستانی انٹلیجنس ایجنسیوں کی جاسوسی سرگرمیوں پر سی آئی ڈی انٹلیجنس اپنے آپریشن سرحد کے تحت مسلسل نظر رکھتی ہے۔ اسی نگرانی کے دوران پتہ چلا کہ فوجی جوان شانتی مے  رانا‘ سوشل میڈیا کے ذریعہ پاکستانی انٹلیجنس ہینڈلرس سے مسلسل رابطہ میں ہے۔

جئے پور انٹلیجنس ٹیم نے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی۔ اس فوجی کو پیسہ کالالچ دے کر پھنسایا گیا تھا۔ 25 جولائی کو اسے حراست میں لے لیا گیا۔ جوائنٹ انکوائری سنٹر جئے پور میں مختلف انٹلیجنس ایجنسیوں نے ملزم جوان سے پوچھ تاچھ کی۔

دوران ِ پوچھ تاچھ اس نے بتایا کہ وہ 2018 سے ہندوستانی فوج میں ہے اور عرصہ سے واٹس ایپ چاٹ اور واٹس آڈیو ویڈیو کے ذریعہ خاتون پاکستانی ایجنٹوں سے رابطہ میں ہے۔ گرنور کور عرف انکیتا کی حیثیت سے اپنا تعارف کرانے والی ایک لڑکی نے جوان سے کہا تھا کہ وہ شاہجہاں پور یوپی کی رہنے والی ہے اور وہاں ملٹری انجینئرنگ سروس میں کام کرتی ہے۔

 ایک اورلڑکی نے اپنا نام نشا بتایا اور فوجی جوان سے کہا کہ وہ ملٹری نرسنگ سروس میں ملازم ہے۔ پیسہ کا لالچ دے کر جوان کو پھنسایا گیا۔ اس سے کہا گیا کہ وہ فوج سے متعلق اہم کاغذات کی تصاویر اور جنگی مشقوں کی ویڈیوز بھیجے جس کے بدلہ میں اسے بڑی رقم ملے گی۔

ملزم جوان نے اپنی ریجمنٹ کی خفیہ دستاویز اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعہ پاکستانی ویمن ایجنٹس کو بھیج دیں۔ بدلہ میں پاکستانی خاتون ایجنٹ نے اس کے بینک کھاتہ میں پیسہ جمع کرادیا۔

ڈی جی مشرا نے کہا کہ ملزم سے پوچھ تاچھ اور موبائل فون کے ٹیکنیکل تجزیہ سے حقائق کی توثیق کے بعد اس کے خلاف کیس گورنمنٹ سیکریٹس ایکٹ 1923کے تحت درج ہوا اور اسے گرفتا رکرلیا گیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button