خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں بے مثال تبدیلی: مودی

وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنے من کی بات پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تین طلاق جیسی سماجی برائیاں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ جب سے تین طلاق کے خلاف قانون نافذ ہوا ہے، ملک میں تین طلاق کے معاملات میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک بے مثال تبدیلی آئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین خود اب ملک میں تبدیلی اور ترقی کی کوششوں کی قیادت کر رہی ہیں۔اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام‘من کی بات’کے دوران قوم سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے بتایا کہ چاہے وہ اسکل انڈیا ہو، سیلف ہیلپ گروپس ہوں یا چھوٹی اور بڑی صنعتیں، خواتین ہر جگہ قیادت کر رہی ہیں۔ جدھر دیکھو عورتیں پرانی روایات کو توڑ رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں خواتین پارلیمنٹ سے لے کر پنچایت تک مختلف شعبوں میں نئی بلندیاں حاصل کر رہی ہیں۔ فوج میں بھی اب بیٹیاں نئے اور بڑے کرداروں میں ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں اور ملک کی حفاظت کر رہی ہیں۔ پچھلے مہینے یوم جمہوریہ پر ہم نے بیٹیوں کو بھی جدید لڑاکا طیارے اڑاتے دیکھا۔

 ملک نے سینک اسکولوں میں بیٹیوں کے داخلے پر پابندی بھی ہٹا دی ہے اورپورے ملک کے فوجی اسکولوں میں بیٹیاں داخلہ لے رہی ہیں۔مسٹر مودی نے کہا کہ ملک میں ہزاروں نئے اسٹارٹ اپس شروع ہوئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف میں ڈائریکٹر کے کردار میں خواتین ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ماضی قریب میں خواتین کے لیے زچگی کی چھٹی بڑھانے جیسے فیصلے کیے گئے ہیں۔

ملک بیٹوں اور بیٹیوں کو مساوی حقوق دے کر شادی کی عمر کو برابر کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر شعبے میں خواتین کی شرکت بڑھ رہی ہے۔وزیر اعظم نے بتایا کہ ‘بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ’ کی کامیابی سے ملک میں جنسی تناسب میں بہتری آئی ہے۔ اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد میں بھی بہتری آئی ہے۔ اس میں ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہماری بیٹیاں درمیان میں اسکول نہ چھوڑیں۔انہوں نے بتایا کہ تین طلاق جیسی سماجی برائیاں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ جب سے تین طلاق کے خلاف قانون نافذ ہوا ہے، ملک میں تین طلاق کے معاملات میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔

علحدہ اطلاع کے بموجب وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ گزشتہ سات سالوں میں ہندوستان سے چوری گئی 200 سے زیادہ قیمتی مورتیوں کو واپس لایا گیا ہے اور ان مورتیوں کو واپس لانا بھارت ماتا کے تئیں ہماری ذمہ داری ہے۔اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام‘من کی بات’کے دوران قوم سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ 2013 تک تقریباً 13 مورتیاں ہندستان لائی گئی تھیں۔ ان مورتیوں میں بھارت کی آتما اور عقیدت کا جزوہے۔

 ان کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے شروع میں ہندوستان اٹلی سے اپنے ایک قیمتی ورثے کو واپس لانے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ ورثہ ہے اولوکیتیشورا پدمپانی کا ہزار سال سے زیادہ پرانا مجسمہ۔ یہ مورتی چند سال قبل بہار میں گیا جی کے دیوی استھان کنڈل پور مندر سے چوری ہوئی تھی۔ لیکن بہت کوششوں کے بعد اب ہندوستان کو یہ مجسمہ واپس مل گیا ہے۔

 مودی نے کہا کہ چند سال پہلے بھگوان انجنی یار ہنومان جی کی مورتی تمل ناڈو کے ویلور سے چوری ہوئی تھی۔ ہنومان جی کی یہ مورتی بھی 600-700 سال پرانی تھی۔ اس مہینے کے شروع میں ہمیں یہ آسٹریلیا میں ملا، اب یہ ہمارے مشن کو مل چکاہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ہزاروں سال کی تاریخ میں ملک کے کونے کونے میں ایک کے بعد ایک مورتیاں ہمیشہ بنتی رہی ہیں، ان میں عقیدت بھی تھی، طاقت بھی تھی، ہنر بھی تھا۔

 ہماری ہر مورتی کی تاریخ میں اس وقت کا اثر بھی نظر آتا ہے، یہ ہندوستان کے مجسمہ سازی کی انوکھی مثالیں تھیں، ہماری عقیدت بھی ان سے جڑی ہوئی تھی، لیکن ماضی میں بہت سارے مجسمے چوری ہو کر ہندوستان سے باہرجاتے رہے، کبھی اس ملک میں تو کبھی اُس ملک میں یہ مورتیاں فروخت کی جاتی رہیں۔

ان کے لیے وہ صرف فن پارے تھے، ان کا اس کی تاریخ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور نہ ہی آستھا سے کوئی تعلق تھا۔ اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ہندوستان نے اپنی کوششیں بڑھا دیں۔جن ممالک سے یہ مورتیاں چرا کر لے جائی گئیں، اب وہ بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ ہندستان کے ساتھ تعلقات میں سفارتی لحاظ سے ان کی بڑی اہمیت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ہندوستان کے جذبات اس سے جڑے ہوئے ہیں، اس سے ہندوستان کی عقیدت وابستہ ہے۔ یہ ہندوستان کی طرف بدلتے ہوئے عالمی نقطہ نظر کی ایک مثال ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button