داراسنگھ چوہان بھی سماج وادی پارٹی میں شامل

سماج وادی پارٹی صدر اکھیلیش یادو نے قائدین سے کہا کہ وہ یقینی بنائیں کہ ان کے حلقوں میں بی جے پی امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی، منفی سیاست کررہی ہے۔

لکھنو: بی جے پی کے تیسرے وزیر داراسنگھ چوہان جو گذشتہ ہفتہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت سے مستعفی ہوئے تھے اتوار کے دن سماج وادی پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اپنا دل کے رکن اسمبلی ڈاکٹر آر کے ورما بھی اتوار کے دن سماج وادی پارٹی میں شامل ہوگئے۔ دونوں قائدین اور ان کے حامیوں نے سوامی پرساد موریہ کے استعفیٰ کے بعد بی جے پی چھوڑدی تھی۔

 اس موقع پر خطاب میں سماج وادی پارٹی صدر اکھیلیش یادو نے قائدین سے کہا کہ وہ یقینی بنائیں کہ ان کے حلقوں میں بی جے پی امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی، منفی سیاست کررہی ہے۔ وہ نفرت بڑھارہی ہے، پھوٹ ڈال رہی ہے۔ ہم ترقی کی سیاست کریں گے۔ اکھیلیش نے ”فیک سروے“ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ سروے میں اسے نہیں دکھایاجارہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی پارٹی جب برسرِ اقتدار آئے گی بنا تاخیر ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کرائے گی۔ پی ٹی آئی کے بموجب اترپردیش کے سابق وزیر اور او بی سی قائد داراسنگھ چوہان اتوار کے دن سماج وادی پارٹی میں شامل ہوگئے۔ جمعہ کے دن سابق وزراء سوامی پرساد موریہ، دھرم سنگھ سائنی‘ اپنا دل کا ایک اور بی جے پی کے 5 رکن اسمبلی سماج وادی پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔

 اپنا دل، بی جے پی کی حلیف جماعت ہے۔ داراسنگھ چوہان نے سماج وادی پارٹی میں شامل ہوتے ہوئے بی جے پی پر تنقید کی اور کہا کہ 2017ء میں بی جے پی نے جب اترپردیش میں حکومت بنائی تھی تو اس نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیاتھا لیکن وکاس(ترقی) مٹھی بھر لوگوں کا ہوا اور مابقی کو ان کے حال پر چھوڑدیاگیا۔ سماج وادی پارٹی کو اپنا ’پرانا گھر‘ قراردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اترپردیش کی سیاست بدل دیں گے  اور اکھیلیش یادو کو پھر یوپی کا چیف منسٹر بنائیں گے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button