دروپدی مرمو ‘فرش سے عرش’ تک کے سفر کی کہانی ہیں

ہندوستان کی 15ویں صدر کا عہدہ سنبھالنے والی قبائلی خاتون دروپدی مرمو کی زندگی 'فرش سے عرش' تک کے سفر کی کہانی ہے۔

نئی دہلی: ہندوستان کی 15ویں صدر کا عہدہ سنبھالنے والی قبائلی خاتون دروپدی مرمو کی زندگی ‘فرش سے عرش’ تک کے سفر کی کہانی ہے۔

چونسٹھ سالہ مرمو نے اس سفر میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، انہوں نے عوامی زندگی کا آغاز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک سادہ کارکن اور ایک بلدی ادارے کے کونسلر کے طور پر کیا اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائزہونے جارہی ہیں۔

محترمہ مرمو اڈیشہ کے ضلع میوربھنج کے پسماندہ اور قبائلی علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں بیداپوسی میں پیدا ہوئیں۔

ابتدائی تعلیم آبائی ضلع میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے رام دیوی مہیلا مہاودیالیہ، بھونیشور سے گریجویشن کیا۔

محترمہ مرمو نے تقریباً پانچ سال حکومت اڈیشہ میں کلرک کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا۔ اس کے بعد وہ رائرنگ پور کے سری آروبندو انٹیگرل ایجوکیشن سینٹر میں ٹیچر بن گئیں، یہاں تک ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

انہوں نے 1997 میں بی جے پی کی رکنیت حاصل کرکے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے اسی سال رائرنگ پور نگر پنچایت میں کونسلر کا انتخاب جیتا۔

ملک کے سب سے بڑے قبائلی گروپ ‘سنتھال’ سے تعلق رکھنے والی، محترمہ مرمو نے اپنے کام سے عوام میں ایک پہچان بنائی اور سال 2000 میں اڈیشہ کی رائرنگ پور اسمبلی سیٹ سے ایم ایل اے منتخب ہوئیں۔ انہوں نے 2000-04 کے دوران وزیراعلیٰ نوین پٹنائک کی کابینہ میں پہلے کامرس اینڈ ٹرانسپورٹ اور بعد میں ماہی پروری اور حیوانات کے محکمے کا چارج بھی سنبھالا۔

محترمہ مرمو 2006 میں اڈیشہ بی جے پی کی درج فہرست قبائل یونٹ کی صدر بنیں۔ سال 2009 میں وہ ایک بار پھر رائرنگ پور سیٹ سے ایم ایل اے منتخب ہوئیں۔ ان کی زندگی میں اچانک اس وقت تعطل آ گیا جب ان کا بڑا بیٹا 2009 میں پراسرار حالات میں انتقال کر گیا۔ چند سال بعد ان کا دوسرا بیٹا اور شوہر بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ محترمہ مرمو نے اس کے بعد کئی بار کہا کہ ان کی زندگی میں اب کچھ نہیں بچا۔

وقت کا پہیہ گھوما اور ‘اڈیشہ کی بیٹی’ محترمہ مرمو 2015 میں ہمسایہ ریاست جھارکھنڈ کی گورنر بنائی گئیں۔ انہوں نے یہ ذمہ داری جولائی 2021 تک نبھائی۔

این ڈی اے نے کئی ناموں پر غور و خوض کے بعد انہیں گزشتہ ماہ اپنا صدارتی امیدوار بنایا تھا۔ وہ جمعرات کو اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا کو شکست دے کر ملک کی اولین شہری بن گئیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button