دنیا بھر کی قبائلی خواتین کے سنگھار

دنیا بھر میں عورتیں بنائو سنگھارکے بغیر کم ہی رہتی ہیں اور کیوں نہ رہیں بھئی یہ تو ان کاحق بھی ہے۔ہر عورت ہی اپنے سجنے سنورنے پر خصوصی توجہ مرکوز رکھتی ہے، جس کا مقصد پرکشش اور حسین نظرآنا ہوتا ہے،یہ کام مختلف آرائشی لوازمات کے بغیر ناممکن ہے۔

غلام زہرا:

دنیا بھر میں عورتیں بناوؑ سنگھارکے بغیر کم ہی رہتی ہیں اور کیوں نہ رہیں بھئی یہ تو ان کاحق بھی ہے۔ہر عورت ہی اپنے سجنے سنورنے پر خصوصی توجہ مرکوز رکھتی ہے، جس کا مقصد پرکشش اور حسین نظرآنا ہوتا ہے،یہ کام مختلف آرائشی لوازمات کے بغیر ناممکن ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ فیشن کی دنیا میں ہونے والے انوکھے تجربات، میک اپ اور اس کی تکنیک پر بڑی سرعت سے اثر انداز ہوئے ہیں۔ نت نئی اقسام کی مصنوعات کی آمد اور تشہیر نے صنف نازک کو میک اپ کا شعور بخشا ہے۔ بیوٹی پارلروںسے نامور میک اپ آرٹسٹ تک ہر ٹی وی چینل سے آرائش حسن کے سادہ اور سہل نسخوں پر مبنی پروگرام، بازاروں میں ہر قسم کی جلد اور رنگ وروپ رکھنے والی خواتین کیلئے مصنوعات کی فروخت نے اس شعبے کی مشکلات کو قدرے کم کردیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آرائش حسن اور خواتین کا ساتھ جب اتنا قدیم ہے تو اس وقت جب کہ ایسی سہولیات میسر نہیں تھیں، لڑکیاں یا عورتیں کیاکرتی تھیں؟

برصغیر ہندوپاک میں صنف نازک اپنے حسن کو سنوارنے اور سجانے کیلئے سولہ سنگھار کا سہارا لیتی آئی ہیں جس سے ان کی زیب وزینت میں نمایاں اضافہ نظر آتا۔ وہ کہیں جانے یا خانہ داری کے تمام امور نمٹا کر اپنے سرتاج کے آنے سے پہلے بڑے اہتمام سے تیار ہوتیں، بالوں میںخوش بودار تیل لگایا جاتا، آنکھوں میں کاجل ، ہونٹوںپر مسی وغیرہ۔

ہم خواتین بننے سنورنے کیلئے سولہ سنگھار کا لفظ جو استعمال کرتی ہیں، یہی اس سوا ل کاجواب بھی ہے۔ عام طور پر روزمرہ کی گفتگو میں لڑکیوں کے سجنے سنورنے کو اس لفظ سے موسوم کیا جاتاہے، مگرقدیم زمانے میں عورت جن سولہ اشیاء سے سج دھج کر کسی محفل کی رونق بخشتی جاتی، دراصل وہ سولہ سنگھار کہلاتیں۔ در حقیقت سنگھار اور خواتین کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ مگر اس وقت آج کے زمانے جیسی سہولیات دستیاب نہیں تھیں، پھر بھی عورتیں سنگھار کئے بغیر گھر سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتی تھیں، کیونکہ شروع سے ہی سولہ سنگھار کو عورت کا اصل حسن اور روپ سمجھا جاتا تھا۔

برصغیرہندو پاکمیںسولہ سنگھار کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کہ زیادہ تر شادی شدہ عورتیں یاسہاگنیں ان اشیاء کو پہنے یا لگائے بنا خود کو نامکمل سمجھتیں۔ دراصل سولہ سنگھار کیلئے استعمال ہونے والی بہت ساری چیزوں کا تعلق ان کی روایات ، عقائد اور توہمات سے جڑاہوا تھا، سہاگنیں ان سولہ چیزوں کو شوہر کی لمبی عمر ،خوشحالی، تندرستی کا ضامن سمجھتیں ، جن پر اس وقت کی بڑی بوڑھی خواتین سختی سے عمل کرواتیں۔

اس سنگھار کا استعمال قدیم تہذیبوں سے منسلک رہاہے، جو کافی محنت طلب کام تھا۔ اسی لیے جدید مصنوعات کے آمد سے قبل میک اپ کیلئے سولہ کلاسیک چیزیں موجود تھیں، تاریخ میں سنگھار کے آغاز کے بارے میں کوئی واضح وقت تو نہیں ملتا، تاہم مختلف قدیم تہذیبوں جن میں دراوڑی، گندھارا اور آریائی ادوار کے مجسموں کے نمونوں ،تصاویر ، داستانوں اور ادب میں ان سولہ سنگھار کا ذکر اور آثار دکھائی دیتے ہیں، اسی لئے کہا جاتا سکتا ہے کہ اس کی شروعات ہندوستان کی قدیم تہذیبوں سے ہوئی۔

ہزاروںسال قبل برصغیر میںشادی سے قبل تجربے کار خواتین اور نانیاں ، دادیاں ، لڑکیوں بالیوں کو باقاعدہ ان کے استعمال کی تربیت دیتیں۔ اسی طرح یہ فن آرائش نسل در نسل منتقل ہوتا چلاگیا۔ ہندوعورتیں اپنے مختلف مذہبی اور سماجی تہواروں کی تیاری میں ان سولہ اشیاء اور سولہ مراحل سے گزرتیں۔ روایتی انداز کی آرائش حسن کیلئے یہ اشیا ناگزیر تھیں۔ ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے بعد میں مسلم اورسکھ عورتوں پر بھی یہ رسومات اثر انداز ہونا شروع ہوگئیں۔ خاص طور پر حویلیوں اور محلوں میںرہنے والی امرا خواتین، نوابوں کی بیگمات اور رانیاں خود کو جن سولہ چیزوں سے سجاتیں ، ان میں کچھ زیورات تھے اور کچھ کاتعلق چہرے پر لگانے والی چیزو ں سے تھا۔سولہ سنگھار کی بہت سی روایات کا تعلق اس وقت کے لوگوں کے مذہبی عقائد سے بھی جڑاہوا تھا۔ اب بھی اس میں ہمیں ہندو مذہب سے ماخوذ کچھ چیزیں نظرآتی ہیں۔

دنیا بھر کی قبائلی خواتین میں متعدد ایسے سنگھار ہیں جو کافی حد تک ملتے جلتے ہیں جھمکے،لہنگے، بندیااور بالی ، ہار اور چوڑیاں کسی ناکسی حد تک مماثلت رکھتی ہیں۔ سندھ کی قبائلی خواتین گوٹے لگے لباس پہنتی ہیں، گوکہ یہ لباس عمومی نہیںہوتے خاص تقریبات میں ہی ان کا استعمال ہوتاہے مگر خاص لباس میں سنہرا گوٹا ، رنگ برنگے بھڑکیلے کپڑے کےساتھ ۔ خاص انداز میں کبھی کان سے دوسرے کان تک زنجیر نمازیور پہنا جاتا ہے جس پر لمبی لمبی جھالر یں ہوتی ہیں، کبھی عام سی زنجیر ہی ہوتی ہے۔گلے میں کوئی گولائیوں میں مختلف سنہرے اور چاندی کے پانی والے دھاگے باندھے ہوتے ہیں۔

وادی کیلاش کے لوگ خیبرہ پختو ن کے ضلع چترال میں آباد ہیں۔ ان کی خواتین گلے میں رسیوں کا جھالر بنا کر ڈالتی ہیں، سرپر ٹوپی ہوتی ہے جو کڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ غور کریں تو یہ خواتین بھی دیگر تقاضوں کی طرح بھڑکیلے رنگ والے کڑھے ہوئے کپڑے پہنتی ہیں۔ کیلاشی خواتین کے کانوں میںجھمکے گوکہ بہت بڑے نہیںہوتے بایوں کہہ لیں کہ عموماً بہت بڑے نہیں ہوتے تاہم سرپر روایتی ٹوپی کڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ کپڑے موسم کے لحاظ سے کسی حد تک موٹے موٹے ہیں،جوان کے علاقے کی ضرورت ہے۔ کپڑوں کے ساتھ ایک خاص کوٹ ہوتا ہے جو کڑھاہوا ہوتاہے۔ ایسے ہی کوٹ آگے چل کر آپ کو دیگر تہذیبوں میں بھی ملیںگے۔

کشمیر کی لڑکیوں میںسرکے اوپر سے اسکارف باندھ کر پیچھے لٹکانے کا انداز تاجک خواتین سے ملتا جلتا ہے جبکہ غور کریں تو پیشانی سے لے کر پیچھے کانوں تک پہنا گیازیور ساتھ ہی لمبے جھمکے بھی دیگر قبائل کی خواتین سے مماثلت رکھتے ہیں ۔ جیسے سندھ کی خواتین کے پہناوے میں ایک طرح کے اسی انداز کے زیورات ہیں۔

دیگر ممالک کی خواتین کے خاص طور پر مسلمان ثقافت سے تعلق رکھنے والی خواتین کے بنائو سنگھار میں کافی حد تک یکسانیت نظرآتی ہے۔

تاجکستان کی خواتین کی کیلاشی خواتین کی طرح سر پر ٹوپیاں پہنتی ہیں جو رنگ برنگی ہیں جبکہ بعض جگہوں پر یہ کڑھی ہوئی بھی ہوتی ہیں۔ تاجک خواتین عموماً بعض قبائل میں کوٹی پہنتی ہیں، یہ ویسے ہی ہے خیبر پختون میں پہنی جاتی ہے۔ لباس میں ویسے ہی بھڑکیلے اور دھاری دار رنگدار کپڑے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی یہاں کی خواتین بھی گلے میں بھاری زنجیریں پہنتی ہیں تاہم عموماً ان کے ہاں بھی دور سے بنے یا یوں کہہ لیں دھاگوں سے تیار خوبصورت رنگ برنگے ہار ہوتے ہیں ۔تاجک لڑکیاں سرپر اسکارف باندھتی ہیں تاہم خاص بات یہ ہے کہ اسکارف باندھنے کا انداز تقریباً وہی ہوتا ہے جو کشمیر میںخواتین کا ہوتا ہے۔ یعنی رنگوں سے بھرپور اسکارف نہایت خوبصورتی سے باندھ کر پیچھے چوٹی کی طرح اتارلیتی ہیں۔ آپ غور کر یںگے کہ کشمیرمیں بھی خواتین اسی طرح کااسکارف باندھتی ہیں۔

اذربائیجان کی قبائلی خاتون اور کشمیری لڑکیوں کے پہناوے پر غو ر کریں، سرپر تقریباً اسی انداز کا زیور ، روایتی ٹوپی بالکل ویسے ہی جسے کیلاش کی خواتین میںدیکھ چکے ہیں۔ کڑھے ہوئے کپڑے کے رنگ شوخ انداز تقریباً ایک جیسا ہوتاہے۔

کروشیا کی خواتین کا لباس بھی کشمیری خواتین سے ملتا جلتا ہے۔سرپر دوپٹے اوڑھنے کا انداز کشمیری خواتین کی طرح پیچھے ایک لٹ یا چوٹی کی صورت میں لٹکانے جیسا ہے ۔ کپڑوں میںگوٹے جھالروں کا استعمال ہوتاہے بعض جگہوں پر پیشانی پر زیور اور گلے میں زنجیر پہننے کا بھی رواج ہے۔

روس: پورے روس میںتو نہیں مگر روسی قبائل میںکچھ جگہوں پر خواتین کا لباس اور زیورات کافی حد تک ایشیائی قبائلی روایتی لباس سے ملتے جلتے ہیں۔ پیشانی پر ایک ٹوپی کی طرح کازیور، کپڑے بھڑکیلے اور کڑھے ہوئے۔ روسی خواتین میں سفید کڑھا ہوا لباس بھی عام ہے تاہم قبائل یادیہات میںعموماً خواتین اب تک پرانی روایات کے مطابق سجی سنوری رہتی ہے۔

تاتارستان: روسی فیڈریشن کا وفاقی علاقہ ہے۔ یہاں بھی روس کی طرح کا لباس خواتین میں عام ہے تاہم مقامی طور پر خواتین میں کڑھے ہوئے کپڑے پہنے جاتے ہیں۔ تاتارستان میں بھی کروشیا اور کشمیر کی خواتین کی طرح سرپر چمکیلی اور کڑھائی دار ٹوپیاں پہننے کا رواج ہے۔ ساتھ ہی خواتین بڑے جھمکے پہنتی ہیں گوکہ اب وقت کے ساتھ نوجوان لڑکیاں ان روایتی پہناوئوں سے دور ہوتی جارہی ہیں۔

تاجکستان بھی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایک الگ ریاست بنا۔ روس کی دیگر آزا د ہونے والی ریاستوں کی طرح یہاں کی خواتین کے بھی لباس ، رہن سہن اور زیورات میں ایشیائی مماثلت نمایاں ہے۔ خواتین کے سرپر خاص کڑھی ہوئی ٹوپی ، کپڑوں پر گوٹے اور چمکدار دھاگوں کا کام ہوتا ہے۔ عموماً خواتین گلے میں زنجیر باندھتی ہیں۔جاپانی خواتین کا یہ روایتی لباس شلوار قمیص کی طرح کا ہوتا ہے۔ ایشیائی ممالک خاص طور پرہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میںخواتین کے پہناوے جاپان کی عام خواتین کے روایتی پہناوئوں سے ملتے ہیں۔ تاہم جاپان میں خواتین ایشیائی خواتین اور خاص طور پر قبائلی خواتین کی طرح روایتی زیورات کا بھی بھرپور استعمال کرتی ہیں جن میں جھومر اور بالیاں بھی شامل ہیں۔

بلوچ خواتین میں ان کے روایتی ملبوسات آج بھی بہت مقبول ہیں۔ بلوچی کپڑوں پہ کشیدہ کاری صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ بلوچ خواتین آج بھی شیشے کی کڑھائی والی ملبوسات میںتلہ، اون اور ریشم کے دھاگوں کی کڑھائی کی جاتی ہے۔ بلوچی ملبوسات کی تیاری میںموسم کے حساب سے کپڑوں کاانتخاب کیا جاتا ہے جس میں لان، ریشم، سوتی ،شیفون اور جارجٹ کے کپڑوں پر کڑھائی کی جاتی ہے۔ بلوچستان کے اس روایتی ملبوسات سے بلوچ ثقافت کے رنگ نمایاں ہوتے ہیں، اس کشیدہ کاری میںچھپی ایک انمول چیز سامنے والی کڑھائی شدہ جیب ہوتی ہے جو کسی کو نظر نہیں آتی۔ یہ روایتی قمیص ہے جس کی جیب اتنی لمبی ہوتی ہے کہ دس کلو چینی ، آٹاآرام سے اس میںڈالا جاسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جیب کو بنانے کیلئے کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگ جاتا ہے جبکہ اس کشیدہ کاری میں بہت محنت صرف کی جاتی ہے۔ یہ کشیدہ کاری دنیا میں سب سے مہنگی اور سب سے زیادہ وقت طلب کشیدہ کاری ہوتی ہے۔ بلوچستان میںتو اس کی قیمت ہزاروں میں ہے لیکن دوسرے شہروں میںاس کی مالیت لاکھوں روپے میں ہوتی ہے۔

بلوچستان میںآج بھی لڑکیاں کشیدہ کاری کے ساتھ قمیص بڑی شوق سے پہنتی ہیں۔ خاص کربلوچوں کی شادی بیاہ پر خواتین کی خواہش ہوتی ہے کہ اچھے نقش ونگار والے بلوچی کپڑوں کا سوٹ زیب تن کریں۔

بلوچستان میں سب سے زیادہ بلوچی لباس میں فراک نما بند چاکوں والی قمیص پرشیشے کے ساتھ کڑھائی والے کپڑے کو ترجیح دیا جاتا ہے، دوپٹے کے پلوئوں اور شلوار کے پائچے پر بھی ایک قسم کی کڑھائی کی جاتی ہے۔ بلوچی کشیدہ کاری ایک مہنگا اور مشکل ہنر ہے۔ یہ عام سی باریک سوئی سے کپڑوں پر خوبصورت نقش ونگار بنائے جاتے ہیں، اسی وجہ سے پورے بلوچستان سے ہاتھ کی کڑھائی والے ملبوسات پوری دنیا میں فروخت کیلئے بھیجے جاتے ہیں جو کہ خاصے مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔

باتیک انڈونیشیا کا خوبصورت کپڑا ہے۔ باتیک پہننے کارواج صدیوں پرانا ہے لیکن اس کا فیشن آج بھی چل رہا ہے ۔ جہاں شاہی لوگ باتیک کو خاص موقعوں پر پہنتے ہیں وہاں دکاندار اسے کام کی جگہ پر پہنتے ہیں۔ باتیک بہت خوبصورت اوررنگین ہوتاہے۔ اس سے طرح طرح کی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ لیکن باتیک ہے کیا؟ یہ کیسے بنتا ہے؟ اس کو بنانے کا دستور کہاںسے چلا؟ آج سے کس کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟ باتیک اس کپڑے کو کہتے ہیں جسے ایک خاص طریقے سے رنگا جاتا ہے۔ یہ کپڑا انڈونیشیا کی ثقافت اور وہاں کے طرز زندگی کااہم حصہ ہے۔ باتیک دنیا کے اور بھی ملکوں میں بنتا ہے اور بہت پسند کیا جاتا ہے۔

باتیک بنانے کیلئے کاریگر تانبے کے ایک آلے میں پگھل ہوئی موم ڈالتا ہے اوراس کے ساتھ کپڑے پر ڈیزائن بناتا ہے۔ جب موم خشک ہوجاتا ہے تو کاریگر کپڑے کو رنگتا ہے۔ جہاں جہاں موم لگاہوتا ہے وہاں کپڑے پر رنگ نہیں چڑھتا۔ کاریگر اس عمل کو بار بار دہراتا ہے اور ہر بار فرق والا رنگ استعمال کرتا ہے۔ اس طرح کپڑے پر رنگ برنگا ڈیزائن بن جاتاہے، لگ بھگ کاریگروں نے تانبے کے ٹھپوں کے ذریعے کپڑے پرموم لگانے کا طریقہ اپنایا۔ اس طریقے سے کام جلدی ہوجاتا تھا اور ایک جیسا کپڑا تیار کیا جاسکتا تھا۔ بیسویںصدی میں باتیک ، فیکٹریوں میں مشینوں کے ذریعے بنایا جانے لگا ۔حالانکہ ہاتھ سے بنا باتیک آج بھی دستیاب ہے لیکن فیکٹریوں میں بنے باتیک کی مانگ زیادہ ہے، باتیک عام طور پر کاٹن یا ریشمی کپڑے پر بنایا جاتا ہے۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button