دنیا میں منکی پاکس کے پھیلاو میں تیزی: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اتوار کو کہا کہ 12 ممالک میں منکی پوکس کے 92 کیسزاور 28 مشتبہ معاملے سامنے آئے ہیں۔

جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اتوار کو کہا کہ 12 ممالک میں منکی پوکس کے 92 کیسزاور 28 مشتبہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے کہا، "21 مئی کی رات تک، 92 معاملات کی لیبارٹریوں میں تصدیق ہوگئی ہے اور 28 مشتبہ کیسزکی جانچ جاری ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسس بھی سامنے آ سکتے ہیں اور اس خدشہ کے پیش نظر ان ممالک کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے جہاں ابھی تک یہ بیماری رپورٹ نہیں ہوئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ ہفتہ کو 12 رکن ممالک سے منکی پاکس کے 92 مصدقہ اور 28 مشتبہ کیسس سامنے آئے ہیں جہاں یہ وائرس پہلے سے موجود نہیں تھا۔

ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلاو سے روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔’دستیاب معلومات کے مطابق یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔‘

دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تاریخ میں پہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلتا ہوا معلوم ہو رہا ہے اور اس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہو رہی ہے جو کبھی افریقی ممالک گئے ہی نہیں۔

منکی پاکس ایک ایسا وائرس ہے جو جنگلی جانوروں خصوصاً زمین کھودنے والے چوہوں اور بندروں میں پایا جاتا ہے اور اکثر ان سے انسانوں کو بھی لگ جاتا ہے۔ اس وائرس کے زیادہ تر کیسس ماضی میں افریقہ کے وسطی اور مشرقی ممالک میں پائے جاتے تھے جہاں یہ بہت تیزی سے پھیلتا تھا۔

پہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں اس وقت ہوئی تھی جب ایک تحقیق کے دوران کچھ سائنس دانوں کو بندروں کے جسم پر ’پاکس‘ یعنی دانے نظر آئے تھے۔ اسی لیے اس بیماری کا نام ’منکی پاکس‘ رکھ دیا گیا تھا۔انسانوں میں اس وائرس کے پہلے کیس کی شناخت 1970 میں افریقی ملک کانگو میں ایک 9 سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

تبصرہ کریں

Back to top button