دِی کشمیر فائلس۔۔۔کتنی حقیقت کتنا فسانہ

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

ملک کی پانچ ریاستی اسمبلیوں کے حالیہ انتخابی نتائج کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی ایک اور زہریلے ایجنڈے کے ساتھ آنے والے عام انتخابات کی تیاری میں لگ گئی ہے۔ خاص طور پر اتر پردیش میں دوبارہ راج سنگھاسن پر قبضے کے بعد بی جے پی کے تیور گزرتے ونوں کے ساتھ بڑے خطرناک ہو تے جا رہے ہیں۔ اب یہ پارٹی کشمیر کے پنڈتوں کی مسیحا بن کر ان کی نعشوں پر اپنی سیاست چمکانا چاہتی ہے۔ گزشتہ دنوں ریلیز ہوئی "دِی کشمیر فائلس "نے ملک میںفرقہ پرستی کا جو ماحول گرما دیا ہے اس سے بی جے پی کا ہی فائدہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ تین دہے گزرنے کے بعد کشمیری پنڈتوں کا دکھ درد اب کیوں یاد آ رہا ہے۔کشمیر 1990کے دہے میں جس شورش پسندی کے دور سے گزرہا تھا اس سے ساری دنیا واقف ہے۔ اس دور میں وادی کشمیر ایک آتش فشان بن چکی تھی۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے خطہ میں ایک ہی صدا گونج رہی تھی کہ "آزادی، آزادی، آزادی "یہ خطرناک فضاءکیو ں پیدا ہوئی اور اس کے پیدا کرنے والے کون تھے۔ یہ سب تاریخ میں درج ہو چکا ہے۔ اس سوال کو کریدنے سے زخم اور تازہ ہوں گے۔ اس وقت کی مرکزی حکومت کے عاقبت نا اندیش اقدامات نے کشمیریو ں میں خوف اور دہشت کی ایسی کیفیت طاری کر دی تھی کہ ان کا حکومتِ ہند پر سے اعتماد اٹھ گیا تھا۔ اس وقت کی مرکز کی کانگریس حکومت نے انتخابی دھندلیاں کر تے ہوئے انتخابی نتائج کو اپنے حق میںکرلیا تھا، اس کے بعد سے کشمیریوں کے دل ٹوٹ گئے اور علیحدگی پسندی کا وہ دور شروع ہوا کہ کئی کٹھ پتلی حکومتیں جموں و کشمیر میں بنتی رہیں لیکن واددی کشمیر میں امن و یکجہتی کاکارواں لُٹتا رہا۔ اس افراتفری کے دور میں عام کشمیری ظلم و جبر کا شکار ہو تے رہے۔ سیکڑوں کی تعداد میں کشمیریوں کی ہلاکت ہوئی۔اسی دوران مرکز میں کانگریس کو زوا ل آ گیا اور وی۔ پی ۔ سنگھ کی قیادت میں ایک مخلوط حکومت ملک میں قائم ہوئی۔ اس مخلوط حکومت میں بی جے پی بھی شامل تھی۔ بی جے پی نے اپنے منصوبے کے تحت جگ موہن کو جموں و کشمیر کا گورنر بنا لیا۔ یہی وہ شخص ہے جس کے دور میں کشمیر میں آگ اور خون کا بازار گرم ہوا۔ جگ موہن اپنی ظالمانہ کارستانیوں کی وجہ سے انصاف پسند حلقوں میں انتہائی حقیرنظروں سے دیکھے جا تے ہیں۔ بعض حلقے ا نہیں "Butcher of Kashmir”کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ جگ موہن نے کشمیریوں کے دل جیتنے کی بجائے حکومتی دہشت گردی کا وہ مظاہر ہ کیا کہ ساری وادی جَل اٹھی اور ایک ایسا لاوا پھٹ پڑا کہ اب تک بھی کشمیر میں حالات اطمینان بخش نہیں ہیں۔ جگ موہن کی کشمیر دشمن پالیسی کا شکار وہاں کے کشمیری پنڈت بھی ہوئے۔ وہ اگر کشمیر میں دوستانہ ماحول بنائے رکھتے اور کشمیریوں کے دکھ درد کو سمجھنے میں کا میاب ہوجاتے تو کشمیری پنڈتوں کی نقل مقامی کی نوبت نہ آ تی۔ جگ موہن نے دانستہ طور پر جموں و کشمیر میں حالات کو اس قدر دگرگوں کر دیا کہ ایک عام کشمیری بھی خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہو گیا۔ یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ کشمیر میں صرف کشمیری پنڈت ہی بدترین حالات کا شکار ہوئے ہیں۔ گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری عوام خونریزی اور ہلاکت کے نہ ختم ہونے والے ایک دردناک دور سے گزررہی ہے۔ اس دہشت گردی کا شکار ہندو بھی ہوئے ہیں اور مسلمان بھی، سکھ اور عیسائی بھی ۔ کشمیر میں ہر ایک کی زندگی داو¿ پر لگی رہی۔ اس لیے کسی ایک طبقہ پر ہونے والے مظالم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا انسانیت پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
کسی بھی طبقہ پر ہونے والا ظلم اور جبر قابل مذمت ہے۔ ایک مہذب معاشرہ میں ظالموں کو پنا ہ دینا پورے سماج کو تباہی و بربادی کے گڑھے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ کشمیری پنڈتوں پر جو کچھ بھی ہوا اسے سماج کے کسی طبقہ نے اور خاص طور پر کشمیری مسلمانوں نے اچھی نظر سے نہیں دیکھا۔ ہر ایک نے ان کی کشمیر سے نقل مکانی کو کشمیر کا نقصان قرار دیا۔ کشمیر پنڈتوں کو بار بار دعوت دی گئی کہ و ہ کشمیر واپس آجائیں۔ لیکن فرقہ پرستی کی سیاست کھیلنے والے انہیںہمیشہ ڈرا دھمکا کر اپنے مفادات کی تکمیل کرتے رہے۔ اب پھر یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ دِی کشمیر فائلس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس فلم کے ذریعہ کشمیری مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ۔ یہ باور کرایا گیا کہ گزشتہ 70سالوں کے دوران کشمیری پنڈت ہی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے پورے ملک میں ہندو شدت پسندی کو ہوا دینے کی اس فلم کے ذریعہ منصوبہ بندی کی گئی۔ یہ فلم ایک ایسے وقت ریلیز کی گئی جب بی جے پی کو اترپردیش میں دوبارہ کا میابی مل چکی تھی۔ 10 مارچ کو انتخابی نتائج آئے اور 11 مارچ کو یہ فلم ریلیز کی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سب کام ایک پلاننگ کے ساتھ ہوا۔ کوئی بھی فلم وقت گزاری کا ذریعہ ہو تی ہے۔ اسکرین پر پیش کئے جا نے والے کردار کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ چناچہ اس فلم میں بھی کشمیری پنڈتوں کو جس لاچاری کی حالت میں پیش کیا گیا، اس کا حقیقت سے دور، دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقائق کو توڑ مڑور کا اس انداز میں ناظرین کے سامنے لایا گیا کہ ایک عام آدمی بھی اس سے متاثر ہوتا ہے۔ کشمیری پنڈتوں سے ہمدردی کا ڈھونگ رچاتے ہوئے یہ باور کرایا گیا کہ وادیِ کشمیر میں صرف یہی لوگ ظلم کو سہہ رہے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ شورش پسندی کے دوران مسلمانو ں کو نا قابل بیان مصائب سے گزرنا پڑا۔ اب بھی مسلمان ہی زیادہ ترکشمیر میں تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کی نقل مقامی جگ موہن کے دور میں ہوئی۔ انہیں کے دور میں یہ پروپگنڈا زور وشور سے ہوا کہ کشمیر میں ہندوو¿ں کا رہنا دوبھرہو گیا ہے۔ اس سوچی سمجھی اسکیم کے تحت کشمیریوں کو ان کا وطن چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ انہیں کشمیری مسلمانوں سے کوئی ڈر نہیں تھا، لیکن انتظامیہ نے ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ سماج تقسیم ہو گیا تھا۔ ماحول کو پراگندا کرنے کی دوبارہ پھر کوشش ہو رہی ہے۔ عوام کی توجہ کو حقیقی مسائل سے ہٹانے کے لیے یہ حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ خود کشمیری پنڈتوں کا کہنا ہے کہ دی کشمیر فائلس میں حقائق کو پیش نہیں کیا گیا۔ اپنے طور پر ایک کہانی گھڑ لی گئی۔ فلم کا سارا اسکرپٹ آر ایس ایس نے لکھا ہے۔ اداکاری کسی اور نے کرلی لیکن اصل ہیرو سنگھ پریوار ہی ہے۔ اس فلم کو ان ریاستوں میں ٹیکس فری کر دیا گیا ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔ یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اس فلم کے بنانے میں حکومت کے کارندوں کا ہاتھ ہے۔ بی جے پی کے ورکرس نے اس فلم کے پوسٹر لگائے۔ یہ سب کس بات کا اشارہ دیتے ہیں۔ فلم کی جس انداز میں تشہیر کی جارہی ہے، اس سے بھی یقین ہوجاتا ہے کہ بی جے پی حکومت اس کی پُشت پر ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کہہ رہے ہیں ہر ایک کو یہ فلم دیکھنی چاہیے۔ کشمیر کے مسائل تو جوں کے توں ہیں ۔ ملک کے عام مسائل بھی مودی حکومت گزشتہ آٹھ سال میں حل نہیں کر سکی۔ 2014میں بڑے طمطراق سے بی جے پی نے پہلی بار اپنی حکومت قائم کی تھی۔ ملک کے رائے دہندوں نے اس امید پر پارٹی کو دو تہائی اکثریت سے کامیاب کرایا تھا کہ وہ عوام کی امیدوں کو پورا کرے گی۔ ان کے بنیادی مسائل کو حل کرے گی۔ لیکن مودی حکومت کے پانچ سال وعدوںکی نظر ہو گئے۔ دوبارہ 2019 میں بی جے پی کے ہاتھوں میں اقتدار آ گیا۔ لیکن عوام سے کئے گئے وعدوں پر کوئی عمل نہیں ہوا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں حالات ہمیشہ دھماکو رہے ہیں۔ یہ ایک حساس سرحدی ریاست ہے۔ یہاں علیحدگی پسند تحریک کبھی کمزور پڑتی ہے اور کبھی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اس پر قابو پانا حکومت کے لیے بہت دشوار ہوجا تا ہے۔ اس سے کشمیری عوام کا ہر طبقہ متا ثر ہوتا ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت ریاست میں امن کو قائم کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضاءکو فروغ دینے کے بجائے ہر واقعہ اور ہر قضیہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی منظم کوشش کر تی ہے۔ کشمیر فائلس کو بنانے کا مقصد بھی کشمیر میں نفرت اور عناد کو بڑھانا ہے۔ فلم میں جذباتی مناظر پیش کرکے سارے ملک کے ہندوو¿ں کو اس بات کے لیے اُ کسانا ہے کہ وہ اس کا بدلہ ملک کے مختلف علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں سے لیں۔ اسی مریضانہ ذہنیت کے ساتھ اس فلم کو ریلیز کیا گیا اور اس کی تائید میں مودی حکومت بھی کھڑی ہو گئی ہے۔ عام ہندوو¿ں کو یہ بات بتانے کی ضرورت ہے کہ بی جے پی اور سارا سنگھ پریوار ان کے جذبات کا استحصال کر تے ہوئے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ورنہ مرکز کی بی جے پی حکومت کو کون روک رہا ہے کہ وہ دہلی میں بسے کشمیری پنڈتوں کی بازآباد کاری کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کرے۔ کیوں سنگھ پریوار کشمیری پنڈتوں کو اپنے وطن میں لے جاکر دوبارہ ان کے گھروں کو آباد کرنے کے لئے تیار نہیں ہے؟ سارے کشمیری بشمول مسلمان یہ چاہتے ہیں کشمیری پنڈت اپنے وطن جموں و کشمیر کو واپس آ جائیں۔ کئی علاقوں میں کشمیری مسلمانوں نے ان کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ یہ جھوٹا پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں ہندو پنڈت مارے گئے۔ جب کہ آر ٹی آئی کے جواب میں پولیس نے بتایا کہ وادیِ کشمیر میںجب سے دہشت گردی پھیلی ہے صرف 89کشمیری پنڈت ہلاک ہوئے ہیں۔ کشمیر میں مسلمان ہزاروں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ مسلم عورتوں کی وہاںعصمتیں لوٹی جاتی ہیں۔ اس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ سری نگر کی جامع مسجد میں مسلمان برسوں سے نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔ ابھی حال میں اس کی اجازت دی گئی۔ ہر تھوڑے دن میں حالات کے بگڑنے سے کرفیو لگ جاتا ہے، اس سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ روزگار کے سارے دروازے بند کر دیے گئے۔ کشمیری نوجوان نوکریوں کے لیے بھٹک رہے ہیں۔ سیاحت کا شعبہ پوری طرح ٹھپ ہوچکا ہے بیرونی سیاحوں کی آمد کم ہوگئی ہے۔ ان سارے حالات کو سدھارنے کے بجائے بی جے پی اپنے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کسی فلم کا سہارا لیتی ہے تو اس سے اہل ملک کو یہی پیغام ملتا ہے کہ اب حکومتوں کو چلانے کے لیے مدبرّ سیاستدان کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کوئی فلم کا ہیرو ، وزیراعظم کی شبیہ کو بنا یا بگاڑ سکتا ہے۔ دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال نے کشمیر فائلس پر تبصرہ کرتے ہوئے صحیح کہا کہ آٹھ سال سے ملک کے وزیراعظم کے عہدہ پر فائز رہنے کے باوجود نریندر مودی کو 2024 کے الیکشن میں کا میابی کے لیے اس فلم کے ڈائریکٹر ویوک اگنی وتی کے چرنوں میں پناہ لینی پڑی۔ وزیراعظم کو یہ کام اس لیے کرنا پڑا کہ آٹھ برسو ںمیں انہوں نے کوئی کارنام انجام نہیں دیا۔ 5 اگست 2019کو یکلخت جموں و کشمیر سے متعلق دفعہ 370کی تنسیخ عمل میں آئی۔ کشمیر کی انفرادیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر ختم کردیا گیا۔ کسی سیاسی پارٹی کو جمہوری انداز میں منتخب ہونے کا موقع نہیں دیا گیا۔ کشمیریوں پر نِت نئی پابندیاں عائد کرکے ان کو شک کے گھیرے میں رکھا گیا۔ اور اب کشمیر فائلس کے ذریعہ کشمیری سماج میں جو خلیج سنگھ پریوار پیدا کر رہا ہے، اس سے کشمیریوں کے دل نہیں جیتے جا سکتے۔ اور جب تک کشمیریوں کے دل نہیں جیتے جائیں گے کشمیر سلگتا رہے گا۔کشمیر کو جنت نشان بنانے کے لیے جس وسیع النظری اور سیاسی عزم کی ضرورت ہے اسی کے فقدان نے کشمیر فائلس کو جنم دیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button