دہلی فسادات، عمر خالد کی تقریر پر عدالت کا اعتراض

خالد کی جانب سے 17 فروری 2020ء کو کی گئی تقریر کو کمرہ عدالت میں بجایا گیا۔ جسٹس بھٹناگر نے ہندی میں کی گئی اس تقریر میں چند الفاظ پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ آپ ملک کے وزیر اعظم کے لیے ایسا لفظ کس طرح استعمال کرسکتے ہیں؟ آپ اسے بہتر انداز میں پیش کرسکتے تھے۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے آج جے این یو کے سابق طالب ِ علم عمر خالد سے پوچھ تاچھ کی، جنہیں یہاں فروری 2020ء میں رونما ہوئے فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق کیس میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

عدالت نے امراوتی میں کی گئی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف استعمال کردہ چند الفاظ کے بارے میں ان سے پوچھ تاچھ کی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ اپنی تقریر میں وزیر اعظم کے لیے کچھ اور الفاظ استعمال کرسکتے تھے اور یہ لائن بہتر انداز میں لکھی جاسکتی تھی۔

جسٹس سدھارتھ مردل اور جسٹس رجنیش بھٹناگر پر مشتمل بنچ خالد کی درخواست کی سماعت کررہی تھی، جنہوں نے ٹرائیل عدالت کے حکم کو چیلنج کیا ہے، جس نے 24 مارچ کو اس کیس میں ان کی درخواست ِ ضمانت خارج کردی تھی۔

خالد کی جانب سے 17 فروری 2020ء کو کی گئی تقریر کو کمرہ عدالت میں بجایا گیا۔ جسٹس بھٹناگر نے ہندی میں کی گئی اس تقریر میں چند الفاظ پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ آپ ملک کے وزیر اعظم کے لیے ایسا لفظ کس طرح استعمال کرسکتے ہیں؟ آپ اسے بہتر انداز میں پیش کرسکتے تھے۔

وزیر اعظم کے لیے کچھ اور الفاظ استعمال کیے جاسکتے تھے۔ خالد یہ الفاظ ادا کرنے سے پہلے رک سکتے تھے۔ سینئر ایڈوکیٹ تریدیپ پائس نے جو خالد کی پیروی کررہے تھے، کہاکہ یہ الفاظ مثال دینے کے لیے استعمال کیے گئے تھے، تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ کس طرح ملک کے حقیقی اور عملی مسائل کو چھپایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خالد رک سکتے تھے، لیکن یہ تشدد بھڑکانے کے مترادف نہیں ہے۔ جج نے کہا کہ کیامہاتما گاندھی نے اپنی تقاریر میں ایسے الفاظ استعمال کیے تھے؟ وہ (خالد) بار بار یہ کہتے ہیں کہ ہم مہاتما گاندھی کے نقش قدم پر چلیں گے۔

اس پر وکیل نے کہا کہ کسی بھی جمہوری ڈھانچہ میں کسی نتیجہ پر پہنچنے یا حکومت کے اقدامات کو اجاگر کرنے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اور اس کا ایک طریقہ الفاظ اور تقاریر کا استعمال ہے۔ جج دریافت کیاکہ خالد نے کس سیاق و سباق میں ”انقلاب اور کرانتی کاری“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔

اس پر وکیل نے کہا کہ اس کا مطلب انقلاب ہے اور لفظ انقلاب استعمال کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ میں نے اپنی تقریر ایک امتیازی قانون کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والوں اور اس کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے سیاق و سباق میں اس لفظ کا استعمال کیا ہے۔ انقلاب یا کرانتی کاری جیسے الفاظ کا استعمال کسی بھی لحاظ سے جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

یہ ایک غیرمنصفانہ قانون کی مخالفت کرنے کی اپیل تھی۔ میرے موکل نے تشدد کی اپیل نہیں کی تھی۔ انہوں نے ایک غیرمنصفانہ قانون کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرنے کے لیے اس لفظ کا استعمال کیا۔ عدالت نے 23 مئی کو مزید دلائل کی سماعت مقرر کی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button