دہلی فسادات کے 3 ملزمین، ثبوتوں کے فقدان پر بَری

ایک عدالت نے آج 2019ء دہلی فسادات کیس کے تین ملزمین کو ڈسچارج کردیا اور کہا کہ اگر ان کے خلاف الزامات وضع کیے گئے تو یہ عدالتی وقت کا مکمل ضیاع ہوگا۔

نئی دہلی: ایک عدالت نے آج 2019ء دہلی فسادات کیس کے تین ملزمین کو ڈسچارج کردیا اور کہا کہ اگر ان کے خلاف الزامات وضع کیے گئے تو یہ عدالتی وقت کا مکمل ضیاع ہوگا۔

شمال مشرقی دہلی کی کرکرڈوما عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ اگر مقدمہ کی کارروائی کے دوران ان ملزمین کے خلاف استغاثہ کے پیش کردہ ثبوتوں کو غلط ثابت نہ کیا جاسکے تب بھی ان ملزمین کو مسلتی کے کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے وضع کردہ اصولوں کی روشنی میں سزا نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس اصول کے تحت اس واقعہ میں ملزمین کے رول اور ان کے ملوث ہونے کو ثابت کرنے کے لیے استغاثہ کے کم از کم دو گواہ درکار ہیں۔

عدالت نے اپنے احکام مؤرخہ 2 اپریل میں کہا کہ چارج شیٹ سے منسلک مواد کی بنیاد پر غور و خوض کے بعد بھی ان ملزمین کے خلاف الزامات وضع نہیں کیے جاسکتے، کیوں کہ قطعی مرحلہ پر انہیں خاطی قرار دیے جانے کے مکمل امکانات نہیں ہیں۔

اگر ثبوتوں کی بنیاد پر ملزمین کے خلاف الزامات وضع کیے جائیں تب بھی انہیں بعد ازاں رہا کرنا ہوگا،اسی لیے یہ عدالتی وقت کا مکمل طور پر ضیاع ہوگا۔

عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ میں کافی ثبوت نہیں ہیں جن کی بنیاد پر تینوں ملزمین کے خلاف الزامات وضع کیے جاسکیں‘ اسی لیے انہیں ڈسچارج کیا جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق تینوں ملزمین نتن، شیام اور شیوا کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 308، 147، 148 اور 149 کے علاوہ آرمس ایکٹ 1959کی دفعہ 27 کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے اور چارج شیٹ تیار کی گئی تھی۔

تبصرہ کریں

Back to top button