دہلی کی سرحدوں سے کسانوں کی واپسی شروع

کسانوں نے مرحلہ وار واپسی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹریفک درہم برہم نہ ہو۔ ایک یا دو دن میں تمام سڑکیں صاف ہوجائیں گی اور چند دن میں انہیں ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔

نئی دہلی: کسانوں نے دہلی کی سرحدیں خالی کرنا شروع کردیا ہے جہاں وہ زائداز ایک سال سے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے خیمے اکھاڑدیئے اور اب گھر واپس ہونے لگے ہیں۔ کسانوں کو بمبو نکال کر ٹریکٹر ٹرالیوں میں لادتے دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے کے گلے لگ کر وداعی لی۔ بعض بوڑھے کسانوں کو وہ جگہ صاف کرتے دیکھا گیا جہاں انہوں نے خیمے لگائے تھے۔ سڑکیں صاف ہونے لگی ہیں۔ کسانوں کو ان کے گھر لے جانے کے لئے دہلی کی سرحدوں پر سینکڑوں ٹریکٹر قطار لگائے کھڑے ہیں ۔

 کسانوں نے مرحلہ وار واپسی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹریفک درہم برہم نہ ہو۔ ایک یا دو دن میں تمام سڑکیں صاف ہوجائیں گی اور چند دن میں انہیں ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ ٹیکری اور غازی پور بارڈر پر ہفتہ کے دن کسانوں کا ایک سالہ احتجاج ختم ہوگیا۔ کاشتکار‘ ٹریکٹرس میں سوار اپنے کھیتوں کو واپس جارہے ہیں۔ بعض نے مٹھائی تقسیم کی اور رقص کیا۔ لگ بھگ 15 ماہ بعد انہوں نے اپنے عارضی مکانات یعنی خیمے اکھاڑدیئے۔ سندھو اور ٹیکری بارڈر سے کسانوں کی اکثریت پنجاب میں اپنے اپنے گاؤں لوٹ جائے گی۔

بھٹنڈہ کے ایک کاشتکار روہی سنگھ نے آئی اے این ایس سے کہا کہ وہ کسانوں کے ساتھ مرکزی حکومت کے رویہ سے پوری طرح مطمئن نہیں ہے۔ حکومت ایک طرف جئے جوان‘ جئے کسان کا نعرہ لگاتی ہے اور دوسری طرف وہ کسانوں کے پوری طرح خلاف ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اسے دوران احتجاج 700 کسانوں کی جانیں جانے پر افسوس ہے۔ پولیس نے کہا کہ احتجاجیوں کے مکمل تخلیہ کے بعد رکاوٹیں دور کردی جائیں گی۔

ایک دکاندار یش ورما نے کہا کہ اس کی الکٹریکل اپلائنسس کی دکان ہے لیکن گاہکوں کو اس کی دکان تک آنے میں دشواری پیش آرہی تھی کیونکہ احتجاج کی وجہ سے راستہ موڑدیا گیا تھا۔ اس کا کاروبار 40 فیصد گھٹ گیا۔ کپڑا بیوپاری اکھلیش کمار نے بھی مسائل کا رونا رویا۔ اس نے کہا کہ پہلے مین روڈ سے اس کی دکان تک آنے میں 30 منٹ لگتے تھے لیکن احتجاج کی وجہ سے ایک گھنٹہ لگنے لگا۔ وہ نیا کلیکشن نہیں منگواسکا کیونکہ ڈسٹری بیوٹرس کو اس کی دکان تک پہنچنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ بعض گاہک بھی صورتِ حال سے ڈرے ہوئے تھے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button