ذکیہ جعفری کیس میں سپریم کورٹ کی رولنگ انتہائی مایوس کن : کانگریس

انگریس نے منگل کے دن سپریم کورٹ کی رولنگ کو ”انتہائی مایوس کن“ قراردیا جس میں 2002کے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلہ میں اُس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی اور دیگر 63 افراد کو کلین چٹ برقرار رکھی گئی۔

نئی دہلی: کانگریس نے منگل کے دن سپریم کورٹ کی رولنگ کو ”انتہائی مایوس کن“ قراردیا جس میں 2002کے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلہ میں اُس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی اور دیگر 63 افراد کو کلین چٹ برقرار رکھی گئی۔

کانگریس نے پوچھا کہ آیا مودی اور ریاستی حکومت کو کبھی جواب دہ ٹھہرایاجائے گا؟۔اپوزیشن جماعت نے کہا کہ وہ اپنے قائد احسان جعفری مرحوم اور ان کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس نے کہا کہ احسان جعفری کے ساتھ جو ہوا وہ انتہائی المناک تھا اور ریاستی حکومت کی بنیادی غفلت کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔

کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری ان 68 افراد میں شامل تھے جنہیں 28 فروری 2002 کو احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی میں مارڈالا گیا تھا۔ گودھرا ٹرین آتشزنی کے دوسرے دن یہ قتل ِ عام ہوا تھا۔ کانگریس نے سپریم کورٹ کی رولنگ پر تفصیلی ردعمل دیا ہے۔

پارٹی جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے کہا کہ ذکیہ جعفری کیس میں سپریم کورٹ کی رولنگ انتہائی مایوس کن ہے۔ 24 جون 2022 کے فیصلہ کے باوجود بعض بنیادی سوالات کے جوابات ہنوز باقی ہیں۔ جئے رام رمیش نے پوچھا کہ بڑے پیمانہ پر جب فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں تو ایسے کیسس میں چیف منسٹر اور ریاستی حکومت کی دستوری اور اخلاقی ذمہ داری کیا ہوتی ہے؟۔

کیا صرف کلکٹر اور ڈپٹی کمشنرپولیس ذمہ دار ہوتے ہیں؟۔ کیا سیاسی اکزیکٹیو ذمہ دار نہیں ہوتا۔ چیف منسٹر‘ کابینہ اور ریاستی حکومت کو جواب دہ نہیں ٹھہرایا جائے گا۔جئے رام رمیش نے پوچھا کہ گجرات فسادات کی روک تھام نہ ہونے پر اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اتنے پریشان کیوں ہوئے تھے کہ انہوں نے مودی کو راج دھرم کا پالن کرنے کو کہہ دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے گجرات کی مودی حکومت کا تقابل اُس وقت موجودہ دور کے نیرو سے کیوں کیا تھا؟ بی جے پی میں بھی بعض لوگوں نے کیوں آواز اٹھائی تھی۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ بی جے پی چاہے جتنا پروپگنڈہ کرلے یہ حقائق کبھی بھی مٹ نہیں سکتے۔

مابعد گودھرا فسادات میں 1040 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان میں بیشتر مسلمان تھے۔ مرکزی حکومت نے مئی 2005 میں راجیہ سبھا کو بتایا تھا کہ ان فسادات میں 254 ہندو اور 790 مسلمان مارے گئے۔

تبصرہ کریں

Back to top button