رائے دہندوں کو لبھانے کے اعلانات‘ معیشت کے لئے تباہ کن: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے تجویز کیا کہ نیتی آیوگ‘ فینانس کمیشن‘ آر بی آئی‘ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک ایکسپرٹ کمیٹی بنائی جائے جو اِن نوازشوں کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لے۔

نئی دہلی: مرکز نے چہارشنبہ کے دن سپریم کورٹ سے کہا کہ سیاسی جماعتیں الیکشن سے قبل جن نوازشوں کا اعلان کرتی ہیں وہ معاشی لحاظ سے تباہ کن ہوتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے تجویز کیا کہ نیتی آیوگ‘ فینانس کمیشن‘ آر بی آئی‘ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک ایکسپرٹ کمیٹی بنائی جائے جو اِن نوازشوں کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لے۔

عدالت نے مانا کہ یہ سنگین مسئلہ ہے۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ رائے دہندوں کو لبھانے کے لئے الیکشن سے قبل جو اعلانات کئے جاتے ہیں وہ رائے دہندوں کے فیصلہ پر اثرانداز ہوتے ہیں لیکن ملک معاشی تباہی کی طرف بڑھتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس معاملہ میں اپنا دماغ استعمال کرنا چاہئے۔ اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہمارے ہاتھ ریوڑیوں سے متعلق سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کی وجہ سے بندھے ہیں۔ ایک اور وکیل نے کہا کہ مثالی منشور بنے اور سیاسی جماعتیں بتادیں کہ ریاست پر کتنا قرض ہے۔

 چیف جسٹس این وی رمنا کی بنچ نے کہا کہ یہ سب کھوکھلی اور رسمی باتیں ہیں۔ تشار مہتا نے پھر کہا کہ ہم معاشی تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سنگین مسئلہ ہے۔ الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس معاملہ میں کچھ بھی نہیں کرسکتے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن کو اس پر غور کرنا چاہئے اور تجاویز پیش کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے سینئر وکیل کپل سبل سے تجاویز مانگیں جو ایک اور معاملہ میں کمرہ ئ عدالت میں موجود تھے۔ کپل سبل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس معاملہ سے دور رکھا جائے کیونکہ یہ سیاسی اور معاشی مسئلہ ہے۔

پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہونی چاہئے۔ بنچ نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ریوڑیاں چھوڑنا نہیں چاہے گی۔ یہ سارا پالیسی معاملہ ہے اور سبھی کو بحث میں حصہ لینا چاہئے۔ فینانس کمیشن‘ سیاسی جماعتیں سبھی اس گروپ کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

ان لوگوں کو بحث کرنے دیا جائے۔ انہیں رپورٹ داخل کرنے دیا جائے۔ ایک وکیل نے تجویز کیا کہ اس عمل میں آر بی ؑآئی کو بھی شامل کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے مرکز‘ الیکشن کمیشن‘ درخواست گزار اور کپل سبل سے کہا کہ وہ ماہرین کمیٹی بنانے پر اندرون ایک ہفتہ تجاویز پیش کریں۔ بنچ نے معاملہ کی مزید سماعت آئندہ ہفتہ مقرر کی۔ عدالت‘ وکیل اشوینی اُپادھیائے کی داخل کردہ درخواست ِ مفاد ِ عامہ کی سماعت کررہی تھی۔

تبصرہ کریں

Back to top button