راجوری میں 2 طالبات کوبے رحمانہ مارپیٹ‘ ٹیچر معطل

دونوں لڑکیوں کے والدین نے مشترکہ طورپر ایک ویڈیو ریکارڈ کیا ہے جسے بڑے پیمانہ پر سوشیل میڈیا پر گشت کرایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کی بنیاد پر راجوری کے ضلع انتظامیہ نے ٹیچر کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور انہیں معطل کردیا گیا۔

راجوری (جموں وکشمیر): جموں وکشمیر کے ضلع راجوری میں ایک سرکاری اسکول ٹیچر کو معطل کردیا گیا ہے اور 2 طالبات کو مارپیٹ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ٹیچر پر مذہبی علامتوں جیسے تلک اور حجاب کا استعمال کرنے والے بچوں کو مارپیٹ کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ قدوریان پنچایت ڈرمن کے سرکاری مڈل اسکول کے ٹیچر نثار احمد پر الزام ہے کہ انہوں نے چوتھی جماعت کے 2 طلبا کو مارپیٹ کی۔

ایک نے اپنی پیشانی پر تلک لگایا تھا جبکہ دوسری لڑکی حجاب پہنی ہوئی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ ٹیچر کو حراست میں لے لیا گیا ہے لیکن ابھی تک بچو ں کو مارپیٹ کا کوئی فرقہ وارانہ زاویہ سامنے نہیں آسکا۔

یہ بھی پڑھیں

دونوں لڑکیوں کے والدین نے مشترکہ طورپر ایک ویڈیو ریکارڈ کیا ہے جسے بڑے پیمانہ پر سوشیل میڈیا پر گشت کرایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کی بنیاد پر راجوری کے ضلع انتظامیہ نے ٹیچر کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور انہیں معطل کردیا گیا۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کورٹ رنکا‘ راجوری انکوائری کریں گے تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کہ بچوں کو واقعی مارپیٹ کی گئی تھی اور اس کی کیا وجوہات تھیں۔ راجوری کے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے جاری احکا م میں یہ بات بتائی گئی۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب یہ الزام عائد کیا گیا کہ پیشانی پر تلک لگانے پر ایک ہندولڑکی کو مارپیٹ کی گئی ہے۔ لڑکی کے والد انگریز سنگھ نے بتایا کہ میری بیٹی اور شکور کی بیٹی کو آج مارپیٹ کی گئی ہے۔ کل ٹیکہ لگانے یا نقاب پہننے پر کوئی ٹیچر کسی بچہ کو مارپیٹ کرے گی۔

میں ضلع انتظامیہ اور سیول سوسائٹی سے اس معاملہ کی تحقیقات کرانے کی گزارش کرتا ہوں۔ سنگھ نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے دیگر کئی ریاستوں میں جاری حجاب تنازعہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ عوام جموں و کشمیر میں ایسی صورتِ حال کی اجازت نہیں دیں گے۔ مجھے انصاف چاہئے۔

آج تلک لگانے پر میری بیٹی کو مارپیٹ کی گئی ہے‘ کل کوئی دوسراآئے گا اور کہے گا کہ تم نقاب کیوں لگاتی ہو۔ یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی ایک کوشش ہے۔ہم اس جگہ کو یوپی‘ بہار یا کرناٹک بننے نہیں دیں گے۔

مسلم لڑکی کے والد محمد شکور نے الزام عائد کیا کہ ٹیچر نے ان کی دختر کو بے رحمی کے ساتھ مارپیٹ کی۔ انہوں نے کہا کہ میری دختر کو سفاکانہ انداز میں پیٹا گیا۔ ٹیچر نے اسے گھونسے اور لاتیں رسید کیں۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ احکام کے مطابق ٹیچر پر بچہ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا جاسکتا ہے جو ایک جرم ہے جس کی پاداش میں کسی شخص کے خلاف تعزیرات ِ ہند کی دفعہ 323‘ 325‘ 352 اور 506کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button