راجیوگاندھی قتل کیس‘ سپریم کورٹ مرکز کے موقف سے متفق نہیں

بنچ نے مرکز کے وکیل سے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آیا گورنر کو درخواست رحم صدرجمہوریہ کو بھیجنے کا اختیار ہے؟۔ گورنر ٹاملناڈو نے پیراری ولن کی درخواست رحم صدرجمہوریہ کو بھیجی تھی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ وہ مرکز کی اس بات سے متفق نہیں کہ عدالت کو انتظار کرنا چاہئے کہ راجیو گاندھی قتل کیس کے خاطی اے جی پیراری ولن کی درخواست رحم پر  صدرجمہوریہ کوئی فیصلہ کریں۔جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گوائی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ہم سماعت کریں گے اور ہمارے فیصلہ پر صدرجمہوریہ کا فیصلہ اثرانداز نہیں ہوگا۔

بنچ نے مرکز کے وکیل سے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آیا گورنر کو درخواست رحم صدرجمہوریہ کو بھیجنے کا اختیار ہے؟۔ گورنر ٹاملناڈو نے پیراری ولن کی درخواست رحم صدرجمہوریہ کو بھیجی تھی۔ بنچ نے کہا کہ گورنر کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ پیراری ولن تقریباً 30 سال کی جیل کاٹ چکا ہے۔ عدالت 20 سال سے زائد کی سزا کاٹ چکے قیدیوں کے حق میں فیصلے دے چکی ہے اور اس کیس میں کوئی بھیدبھاؤ نہیں ہوسکتا۔

تبصرہ کریں

Back to top button