راجیو گاندھی کے قتل میں سزا کاٹ رہے پیراریولن کی رہائی: سپریم کورٹ

بنچ نے تمام مجرموں کو معاف کرنے کے لئے ٹاملناڈو کی کابینہ کی سفارش پر گورنر کی طرف سے فیصلہ لینے میں تاخیر اور مجرم کی صحت کے مسائل سے متعلق حقائق پر غور کرتے ہوئے رہائی کا فیصلہ دیا۔ پیراریولن فی الحال ضمانت پر باہر ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 1991 میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل معاملے میں سات قصورواروں میں شامل عمر قید کی سزا کاٹ رہے اے جی پیراریولن کی رہائی کا حکم چہارشنبہ کو دیا۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے۔ بوپنا کی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پیریوالن کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

بنچ نے تمام مجرموں کو معاف کرنے کے لئے تمل ناڈو کی کابینہ کی سفارش پر گورنر کی طرف سے فیصلہ لینے میں تاخیر اور مجرم کی صحت کے مسائل سے متعلق حقائق پر غور کرتے ہوئے رہائی کا فیصلہ دیا۔ پیراریولن فی الحال ضمانت پر باہر ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم تین رکنی بنچ کی ایک رٹ پٹیشن پر سنایا۔

سال 1991 میں تمل ناڈو کے سری پیرمبدور،میں ایک انتخابی اجلاس کے دوران ایک خودکش دھماکے میں راجیو گاندھی کو قتل کر دیا گیا۔ اس معاملے میں دیگر ملزمان کے ساتھ پیراریولن کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ تب ان کی عمر 19 سال تھی۔ عدالت نے سماعت کے بعد انہیں سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے مجرم کی رحم کی درخواست پر فیصلہ کرنے میں تاخیر کی بنیاد پر سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ ستمبر 2018 میں، تمل ناڈو کی کابینہ نے سات مجرموں کی رہائی کی سفارش کی تھی، جسے گورنر نے 27 جنوری 2021 کو غور کے لیے صدر کے پاس بھیجا تھا۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اپنے فیصلے میں کہا کہ گورنر کے لیے کابینہ کی سفارش صدر کو بھیجنے کی کوئی آئینی بنیاد نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی سفارش پر گورنر کو آئین کے آرٹیکل 161 کے تحت فیصلہ لینے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اس معاملے میں کافی تاخیر کی گی اور اسے صدر کے پاس بھیج دیا گیا ۔

تبصرہ کریں

Back to top button