راہول کی من مانی سے کانگریس کا ناراض گروپ مزید خفا

 چھتیس گڑھ کا مسئلہ ہو یا پنجاب کا میٹنگس‘ راہول گاندھی کے تغلق لین والے بنگلہ میں ہوتی رہی ہیں۔ اس سے واضح ہوگیا کہ کانگریس میں فیصلہ سازی اب راہول گاندھی تک محدود ہے۔

نئی دہلی: راہول گاندھی کے استعفیٰ دینے کے بعد سے سونیا گاندھی کانگریس کی عبوری صدر ہیں لیکن تمام میٹنگس اور فیصلے راہول گاندھی کے بنگلہ میں ہورہے ہیں۔ اس طرح وہ عملاً سربراہ بن گئے ہیں۔

 کانگریس کے ناراض گروپ 23نے جس نے ایک سال قبل دکھائی دینے والی اور موثر قیادت کیلئے لکھا تھا نشاندہی کی ہے کہ اس نے جو مسائل اٹھائے تھے وہ جوں کے توں ہیں ان پر کوئی فیصلہ نہیں ہورہا ہے۔ مکتوب لکھنے والے قائدین میں کئی کو پارٹی کی مختلف کمیٹیوں میں جگہ دے دی گئی لیکن انہیں مشاورتی عمل کا حصہ نہیں بنایا گیا جس سے ناراض گروپ مزید خفا ہے۔

 چھتیس گڑھ کا مسئلہ ہو یا پنجاب کا میٹنگس‘ راہول گاندھی کے تغلق لین والے بنگلہ میں ہوتی رہی ہیں۔ اس سے واضح ہوگیا کہ کانگریس میں فیصلہ سازی اب راہول گاندھی تک محدود ہے۔ پنجاب کا مسئلہ راہول گاندھی کے بنگلہ میں حل ہوا۔ نوجوت سنگھ سدھو کو صدر پنجاب پردیش کانگریس بنادیا گیا۔ بعد میں سونیا گاندھی کے ساتھ میٹنگ ہوئی لیکن فیصلہ تو راہول گاندھی کے بنگلہ میں ہوا جس کی تائید پرینکا گاندھی وڈرا نے کی۔

 کانگریس قیادت پر سدھو کی تنقید پر سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے اردو کا شعر

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچہ نہیں ہوتا

 پڑھا تھا۔ راہول گاندھی کی چلنے کے باوجود حالات بہتر نہیں ہورہے ہیں۔ راجستھان کا مسئلہ دیڑھ سال سے لٹکا ہوا ہے۔

کانگریس کٹھن ددور سے گزر رہی ہے۔ اسے 6ریاستوں اترپردیش‘ اترکھنڈ‘گوا‘ پنجاب‘ منی پور اور گجرات میں اسمبلی الیکشن کا سامنا ہے۔ دہلی اور ممبئی سیمی میونسپل الیکشن ہونے والا ہے۔ (آئی اے این ایس)

تبصرہ کریں

Back to top button