رفع حاجت کے لئے بیت الخلاء جانے والی یونیورسٹی طالبہ نے جنم دیا بچہ

بچہ تولد ہونے کے دوسرے دن ہی جیس ڈیوس کی سالگرہ تھی۔ اس کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ حاملہ ہے اور جب اسے شدید پیٹ درد اٹھا تو اس نے سمجھا کہ شاید اس کے پیریڈس شروع ہونے والے ہیں۔

حیدرآباد: برطانیہ میں ایک یونیورسٹی طالبہ حاجت سے فراغت کے لئے بیت الخلاء گئی لیکن وہاں خود اس کی بے خبری میں اسے ایک بچہ تولد ہوگیا۔ اس نے جب بچے کے رونے کی آواز سنی تو اسے دیکھ کر دنگ ہوگئی کیونکہ اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ حمل سے تھی۔  

بچہ تولد ہونے کے دوسرے دن ہی جیس ڈیوس کی سالگرہ تھی۔ اس کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ حاملہ ہے اور جب اسے شدید پیٹ درد اٹھا تو اس نے سمجھا کہ شاید اس کے پیریڈس شروع ہونے والے ہیں۔

انڈیپنڈنٹ کے مطابق، جیس ڈیوس انگلینڈ کے برسٹل میں تاریخ اور سیاست کی طالبہ ہے۔ وہ اس وقت ساؤتھمپٹن ​​یونیورسٹی میں سال دوم کی طالبہ بتائی جاتی ہے۔ پورے حمل کے دوران اسے کوئی واضح علامات محسوس نہیں ہوئیں اور نہ ہی اسے کبھی اپنا پیٹ پھولا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کی ماہواری ہمیشہ بے قاعدہ رہی ہے اور کئی مہینوں تک وہ فارغ نہیں ہوئی تو سمجھتی رہی کہ یہ تو اس کے چلتا رہتا ہے۔

اب، 20 سالہ ماں 11 جون کو اپنے بیٹے کو دنیا میں خوش آمدید کہنے کے بعد خود کو ماں محسوس کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ بچے کا وزن تقریباً 3 کلو گرام ہے۔ جیس ڈیوس نے مزید بتایا کہ جب وہ اس طرح پیدا ہوا تو یہ میری زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا تھا۔ مجھے لگا کہ میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں۔

جیس ڈیوس نے مزید بتایا کہ مجھے اس وقت تک احساس نہیں ہوا کہ آخر کیا ہوا جب تک میں نے اسے روتے ہوئے نہیں سنا۔ اس نے مزید کہا کہ ابتدائی جھٹکے پر قابو پانے اور اس کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے اور اس کے ساتھ جڑنے میں تھوڑا وقت لگا، لیکن اب میں بہت خوش ہوں۔

انڈیپنڈنٹ کے مطابق، جیس ڈیوس نے انکشاف کیا کہ جب وہ 11 جون 2022 کی صبح شدید پیٹ درد کے ساتھ بیدار ہوئی تو اس نے سمجھا کہ بہت دنوں بعد پیریڈس شروع ہونے والے ہیں اور شاید اسی لئے اتنی تکلیف ہورہی ہے۔ درد کے باعث وہ بمشکل چلنے پھرنے کے قابل تھی اور اپنے بستر پر لیٹنے میں بھی وہ تکلیف محسوس کررہی تھی۔

اس نے بتایا کہ اپنی سالگرہ کے سلسلہ میں اُس رات اُس نے اپنے دوستوں کو نائٹ آؤٹ پارٹی دینی تھی، اس لیے اس نے غسل کیا تاکہ بہتر محسوس کر سکے، لیکن درد اور بڑھتا ہی چلا گیا۔

اب اچانک اسے ٹوائلٹ جانے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی، اس نے بتایا کہ جب اس نے ٹوائلٹ میں بیٹھ کر زور لگایا تو محسوس ہوا جیسے کچھ پھاڑا جارہا ہو۔ مجھے بس اس سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا، اس لئے میں نے اور زور لگایا۔  

اس دوران جیس ڈیوس کو ہرگز یہ محسوس ہوا اور نہ یہ خیال آیا کہ وہ ایک بچے کو جنم دے رہی ہے۔

وہ صرف اتنا جانتی تھی کہ جو بھی تھا اسے باہر نکال کر تکلیف سے راحت حاصل کرنی تھی۔ مگر جب اس نے بچے کے رونے کی آواز سنی تو وہ حیران ہوگئی۔ جب حقیقت کا سامنا ہوا تو اسے جھٹکوں پر جھٹکے لگنے لگے۔

اب اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرنا چاہئے۔ وہ اس وقت گھر میں اکیلی تھی۔ پھر اس نے اپنی بہترین دوست، لیو کنگ کو فون کیا۔ کنگ نے سمجھا کہ وہ پارٹی نہ دینے کا کوئی بہانہ بنارہی ہے اور جب جیس ڈیوس نے تصویر بھیجی تو کنگ نے اسے ایمبولینس طلب کرنے کا مشورہ دیا۔

جیس ڈیوس کو پرنسس اینے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹرس نے بچے کو انکیوبیٹر میں منتقل کیا۔ ڈاکٹرس کا خیال ہے کہ وہ 35 ہفتوں کے حمل میں پیدا ہوا ہے۔

ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ ماں اور بچہ تیزی سے روبصحت ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button