روسی افواج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر کئی میزائل داغے

یوکرین صدر زیلنسکی کی جانب سے ملک کو دیے گئے پیغام میں روس سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ روسی حملے کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

کیف: صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے دوسرے دن جمعہ کو دارالحکومت کیف میں کئی حملوں کے بعد روس سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے بی بی سی نے یوکرائنی حکام کے حوالے سے بتایا کہ روسی افواج نے دارالحکومت پر کئی میزائل داغے اس بڑے حملے میں کم از کم ایک عمارت کو نقصان پہنچا اور میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں تین افراد زخمی ہوئے۔

زیلنسکی کی جانب سے ملک کو دیے گئے پیغام میں روس سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ روسی حملے کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔ بی بی سی نے کیف میں صبح 4 بجے کے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے پوزیانکی کے علاقے میں اس وقت ہوئے جب روسی افواج کیف کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں۔

 بی بی سی کے رپورٹر نے ٹویٹ کیاکہ ’کیف میں دو چھوٹے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، فی الحال یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ اس کا کیا مطلب ہے لیکن افواہیں ہیں کہ روسی افواج دارالحکومت میں داخل ہو گئی ہیں۔ یوکرین کی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی افواج دارالحکومت کیف کے مضافات میں دیمر اور ایوانکیو میں روسی افواج سے مقابلہ رہی ہیں اور وہاں روسی بکتر بند گاڑیوں کا ایک بڑا اجتماع ہے۔

 یوکرائنی ملٹری فورسز کے آفیشل فیس بک پیج پر بتایا ہے کہ "روسی افواج جو دارالحکومت کے سب سے مغربی علاقے میں داخل ہوئی ہیں ان سے مقابلہ کیا جا رہا ہے۔” اس سے قبل روسی افواج کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے یوکرین کی فوج نے خود دریائے ٹیٹریو پر بنے پل کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ دارالحکومت کے مضافات میں واقع ہوائی اڈے پر روسی افواج کے ساتھ لڑائی ابھی بھی جاری ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button