روسی حملے کے بعد یوروپ کا احیا

منور مرزا

یوروپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد دو بڑی تبدیلیاں آئیں۔ پہلی یوروپی یونین کا قیام اور دوسری بریگزٹ یا یوروپی یونین کا ٹوٹنا۔جو تبدیلی یوروپی اتحاد کی شکل میں سامنے آئی، حالات بدلنے کے باوجود اس کے بنیادی مقاصد کی طرف، یعنی معاشی استحکام اور عوام کے معیار زندگی میں بلندی، سفر جاری رہا۔ برطانیہ کی علیٰحدگی سے یہی اشارے مل رہے تھے کہ اگر ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل جاری رہا، تو یوروپی یونین بکھر جائے گی۔
اس بات کا خطرہ اس لیے بھی محسوس کیا جارہا تھا کہ یوروپ میں قوم پرستی کی لہر پھیلتی جا رہی تھی، لیکن یوکرین پر روس کے حملے نے تو یوروپ کو ایک نئی توانائی فراہم کردی۔ یوروپ کو صدر پوٹن کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں نے ٹوٹتے یوروپ کو پھر سے یکجاکردیا۔ افغانستان اور ایشیا سے امریکہ کی پسپائی کے بعد عالمی حلقوں میں یہ سوچ عام ہے کہ اب مغرب کا کردار محدود ہوجائے گا، خاص طور پر اس کا اہم اور بنیادی فوجی بازو، ناٹو عضومعطّل بن کر رہ جائے گا۔
شاید اسی وجہ سے ناٹو کے ترکی جیسے اتحادی نے امریکہ اور یوروپ کی مخالفت کے باوجود روس سے دفاعی نظام لینے کا فیصلہ کیا۔ کہا جا رہا ہے کہ اب روس اور چین کا نیا اتحاد، یوروپی یونین کا متبادل ہوگا۔ ویسے بھی افغانستان،عراق، لیبیا میں امریکہ اور ناٹو کا کردار تنقید کا نشانہ رہا۔خود امریکی صدر، ڈونالڈ ٹرمپ بار بار مالیاتی معاملات پر ناپسندیدگی کا اظہار کر تے رہے۔
انہوں نے یوروپ کو خبردار بھی کیا کہ ناٹو، یوروپ کا دفاعی ادارہ ہے، لہٰذا اس کا بوجھ بھی اسے ہی ا±ٹھانا چاہے، لیکن جرمنی سے فرانس تک کسی یوروپی ملک نے ان کی اس بات پر کان نہیں دھرے، یہاں تک کہ کوئی اپنا سالانہ مالیاتی حصّہ ڈالنے پر بھی تیار نہ تھا۔اب اسے صدر پوٹن کی مہربانی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ناٹو دوبارہ فعال ہوچکا ہے اور رکن ممالک اسے مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ ایسا کیوں ہوا، حالاں کہ صدر پوٹن کا یوکرین پر حملہ ان کی پہلی فوجی پیش قدمی تو نہیں، وہ اس سے قبل جارجیا، کریمیا اور شام میں باقاعدہ فوجی کارروائیاں کر کے اس کے ثمرات حاصل کرچکے ہیں۔
انہوں نے اپنا طاقت ور ہونے کا امیج بنایا، جو سوویت روس کی بحالی کی جانب پہلا قدم تھا۔ نیز، روس کو بڑی عالمی فوجی اور معاشی طاقت کے طور پر بھی منوا لیا۔ اسی تناظر میں ماہرین سوال کرتے ہیں کہ کیا پوٹن کے لیے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرکے یوروپ کے سامنے کھڑا ہونا ضروری تھا؟ اور کیا انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس فوجی کارروائی کے یوروپ اور دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، خاص طور پر مشرقی یوروپ پر، جسے اس کے تسلط سے نکلے صرف 30 سال ہی ہوئے ہیں؟ پوٹن نے چینی قیادت کو بھی آزمائش سے دوچار کردیا کہ وہ اب مغرب اور روس میں سے کس کا انتخاب کرے؟ نیز، روس کا امیج ایک جارح قوت کے طور پر ابھرا ہے، جو اس کے نیوکلیئر پس منظر میں بڑی طاقتوں کے لیے قابلِ قبول نہیں۔پوٹن نے حالیہ جنگ کے دوران اپنی ایٹمی قوت کا ذکر کیا، جو کسی بھی ایٹمی طاقت کی طرف سے پہلی دھمکی تھی۔
یوروپی یونین کا قیام واضح پس منظر اور مقاصد کے تحت عمل میں آیا۔پہلی اور دوسری عالمی جنگیں وسعت کے لحاظ سے تو دنیا بھر میں لڑی گئیں، لیکن ان کا مرکز یوروپ رہا کہ ان جنگوں سے یوروپ کی سیاست ہی نہیں، جغرافیہ بھی بدل گیا۔کئی سلطنتیں ختم ہوئیں اور جمہوریتوں نے ان کی جگہ لی۔ یوروپ میں دو نظام سامنے آئے۔ ایک جمہوریت اور دوسرا روسی کمیونزم۔ایک نے مغربی بلاک کی شکل اختیار کی، تو دوسرے نے کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظام کی۔دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس تقسیم نے باقاعدہ مقابلے اور سرد جنگ کی شکل اختیار کر لی۔
یوروپی یونین کے قیام کے پسِ پردہ امریکہ کا وہ اقتصادی امداد کا عالم گیر نظام تھا، جو تاریخ میں ” مارشل پلان“ کے نام سے معروف ہے۔اس عالمی جنگ کے بعد کوئی ملک اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہا تھا۔صرف امریکہ کے پاس وسائل اور دولت کے ساتھ ٹیکنالوجی بھی تھی۔ یوروپ کھنڈر بن چکا تھا۔مہاجرین کا سیلاب بھی بڑا چیلنج بن کر ابھرا۔ فرانس اور برطانیہ امریکی مدد سے جنگ تو جیت گئے، لیکن اقتصادی طور پر اس قدر کم زور ہوگئے کہ خود کو سنبھالنے کے بھی قابل نہ رہے، کجا کہ اپنی نوآبادیات کو قابو میں رکھتے۔ اسی لیے اس جنگ کے بعد نوآبادت کا دور اختتام کو پہنچا۔
ایشیا سے افریقہ تک نئے ممالک وجود میں آئے، جن میں سے کئی ممالک 15، 20 لاکھ نفوس پر مشتمل تھے۔ اسی زمانے میں نت نئے انقلابات کی دھوم مچی۔ ان حالات میں یوروپی ممالک نے مل کر یونین تشکیل دی تاکہ یوروپ کو معاشی طور پر مستحکم اور جنگوں سے محفوظ بنایا جاسکے۔بریگزٹ تک یہ اہداف کامیابی سے حاصل ہوتے رہے۔ جب1991 ء میں سوویت یونین بکھری، تو یوروپی ممالک جیسے اتحادوں کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا اور یونین میں مشرقی یوروپی ممالک کی شمولیت کے بعد تو اس کی طاقت اِس قدر بڑھی کہ جرمنی اور فرانس جیسے یوروپ کے لیڈرز امریکہ کو آنکھیں دِکھانے لگے۔
یوروپ کے انسانی حقوق اور انرجی سے متعلق قوانین امریکہ سے کہیں زیادہ سخت ہیں۔نیز، یوروپی ممالک کے اتحاد اور مشترکہ تجارتی پالیسی نے چین اور امریکہ کو بہت سے معاملات میں سمجھوتوں پر مجبور کردیا کہ دونوں کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار یوروپ ہے۔یوروپ کو ترقی کے لیے جس انرجی کا بہت زیادہ استعمال کرنا پڑا، اس کا بڑا حصہ روس فراہم کرتا ہے۔ یوروپ کی گیس کی40 فی صد ضروریات روس پوری کرتا ہے، جب کہ تیل بھی وافر مقدار میں اسی سے لیا جاتا ہے۔
کئی ممالک کو گندم کے لیے بھی روس پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یوں یوروپ اور روس کے تعلقات میں اضافہ ہوتا رہا، جسے ”Osteo Politics“ کے نظریے نے مزید تقویت دی، جس کی بانی جرمنی کی حکم ران جماعت، سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی ہے۔ روس کی پوسٹ سوویت دورمیں معاشی مضبوطی کی بڑی وجہ یہی یوروپی منڈی ہے۔ اسی طرح چین اور امریکہ بھی یوروپ کے بڑے تجارتی پارٹنرہیں۔ دونوں کے لیے موجودہ عالمی نظام میں کسی بھونچال کا مطلب اپنی معیشت کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔تو کیا یوکرین پر حملہ کرتے وقت صدر پوٹن کے سامنے یہ باتیں نہیں تھیں، جب کہ مغرب تو انہیں شدید اقتصادی پابندیوں کی پہلے ہی دھمکیاں دے رہا تھا۔
ممکن ہے، صدر پوٹن کا یہ خیال ہو کہ یوروپ پابندیوں کا حصہ بننے کی بجائے ماضی کی طرح نرم رویہ اپنائے گا، لیکن ان کا اندازہ غلط نکلا۔یاد رہے، یوروپ کو بڑا دھچکا اس وقت لگا تھا، جب اس کا سب سے مضبوط رکن، برطانیہ اس سے الگ ہوا۔ یوروپ میں اس کا باقاعدہ سوگ منایا گیا کہ ایک سہانا خواب بکھر گیا تھا۔ اس علیحدگی سے لگ رہا تھا کہ اب یوروپی یونین مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گی اور برطانیہ مستقبل میں یوروپ کی بجائے امریکہ کی طرف جھک جائے گا۔پوٹن نے شاید یہ سوچا ہوگا کہ یوروپ نئے حالات میں برطانیہ اور امریکہ کی بجائے روس اور چین کی جانب مائل ہوگا۔ تجارتی نقطہ نظر سے ایسا ممکن بھی تھا، لیکن یوکرین پر حملے نے اس امکان کو جس طرح بھک سے اڑا دیا، وہ روس کے لیے حیرت انگیز دھماکہ ہے۔نہ صرف یوروپ فوراً متحد ہوگیا، بلکہ برطانیہ بھی اس کے قریب آگیا، جو بریگزٹ کی وجہ سے فاصلے پر چلا گیا تھا۔ وزیرِ اعظم، بورس جانسن کی تقاریر اور بیانات میں چرچل کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔گویا1939 ء کا منظر کچھ جدتوں کے ساتھ سامنے آگیا۔روسی حملے کے خلاف ویسے ہی بیانات آنے لگے، جیسے ہٹلر کے خلاف آیا کرتے تھے۔ کہا جارہا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ یوروپ پر سب سے بڑی فوجی چڑھائی ہے۔ پوٹن کے لیے سب سے تکلیف دہ بات جرمنی کا مخالفانہ اور سخت رویہ ہے۔مرکل کے زمانے میں روس، جرمنی تعلقات بہت اچھے تھے، بلکہ یوروپی ممالک مرکل کو روس کا ترجمان سمجھتے تھے۔ اب جرمنی نے روس کے ساتھ گیس منصوبہ ختم کرکے اپنے نیوکلیئر پاور پلانٹس کو بھی فعال کردیا ہے تاکہ انرجی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ علاوہ ازیں، اس نے اپنا” pacifist “ کا کردار، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد یوروپ میں اپنایا تھا، ختم کردیا۔اس نے یوکرین کو اینٹی ٹینک اور اینٹی ایئرکرفٹ میزائل فراہم کیے، اپنا دفاعی بجٹ دگنا کردیا اور ناٹو میں بھی حصہ بڑھا دیا۔ یوں وہ دوسری جنگ عظیم کے 74سال بعد دوبارہ فوجی طاقت بن رہا ہے۔برطانیہ کے یوروپی یونین سے نکلنے کے بعد جرمنی کا اقتصادی کردار تو پہلے ہی ایک لیڈر کا تھا، اب معاشی طاقت اور ٹیکنالوجی کی برتری سے اس کی فوجی طاقت یوروپ میں کس طور سامنے آئے گی، یہ بھی بہت اہم ہے۔ گویا یوروپ کو جرمنی کی صورت برطانیہ کا طاقت ور متبادل مل گیا، جو معاشی دیو ہے اور فوجی صلاحیت بڑھانے کی قوت سے بھی مالا مال۔
اس کا ایک اور پہلو ” یورو ایشیا“ میں جاپان اور جرمنی کے یک ساں رویوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور تائیوان نے روس پر مغربی پابندیوں کا بھرپور ساتھ دیا، حالاں کہ اس سے قبل جاپان، چین سے مخالفت کے سبب روس سے اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔جاپان کا خطے میں فوجی کردار بڑھنے کا امکان ہے، جو چین کے لیے انتہائی ناپسندیدہ ہوگا، مگر امریکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
یاد رہے، سابق وزیراعظم، شنزو آبے کے دور میں جاپان نے اپنے آرٹیکل 9 میں ترمیم کرکے اپنے غیر فوجی کردار کو خیرباد کہتے ہوئے اسلحہ اور فوج رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ پابندی اس کے عوام اور لیڈرز نے ازخود دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنائی تھی۔اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ جنہیں عالمی جنگ میں ”axisis powers“ کہا جاتا تھا، وہ دوبارہ فوجی کردار ادا کرنے لگے ہیں۔ گو، ان کا اتحاد اب بالکل الٹ ہے۔ وہ اس بار امریکہ اور یوروپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ جاپان اور جرمنی عالمی اقتصادی قوتیں ہیں۔دونوں جب چاہیں نیوکلیئر ہتھیار بنا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی طور پر امریکہ اور مغربی طاقتیں ان کی پشت پر ہیں۔حال ہی میں آکوس معاہدے کی صورت آسٹریلیا کو بھی نیوکلیر پاور کا کردار دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں یہ خوف بھی ہوسکتا ہے کہ اگر یوکرین وار کے نتیجے میں چین اور روس نزدیک آگئے، تو چین بھی تائیوان میں روسی انداز اپنا سکتا ہے۔حالاں کہ اس معاملے میں چینی تاریخ روس سے بالکل مختلف ہے۔ بادشاہت کے دورمیں بھی چینی حکم رانوں نے توسیع پسندی کی سوچ نہیں اپنائی، جب کہ روس کے زار حکم ران فوجی جارحیت کی وجہ سے بدنام ہیں۔
چین کی موجودہ لیڈر شپ اور اس کی ترقی کے جدید فلسفے کی بنیاد اقتصادیات اور ٹیکنالوجی کی برتری پر ہے۔تاہم، صدر شی جن پنگ حال ہی میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ” چین اور اس کی طاقت اس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جہاں اسے دنیا کے مرکزی اسٹیج پر اپنا اہم کردار ادا کرنے کا حق ہے۔“وہ یہی کہنا چاہتے ہیں کہ چین اب سُپر طاقت کا کردار اپنانے کے بہت قریب ہے۔ دنیا پر برتری کے ویسے تو کئی نظریات ہیں، لیکن بیش تر ماہرین کا کہنا ہے کہ جو طاقتیں یورو ایشیا کے وسیع اور زرخیز علاقے پر برتری حاصل کر لیتی ہیں، وہی دنیا پر حکم رانی کرتی ہیں۔یورو ایشیا کا یہ علاقہ بحر روم سے جاپان تک محیط ہے۔
اسی نظریے پر بڑی طاقتیں اپنی عالمی حکمت عملی کی بنیاد رکھتی ہیں۔جنوب مشرقی ایشیا پر ارتکاز کی امریکی پالیسی کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے، جسے تقویت دینے کے لیے اس نے یوروپ کو خود مختار طاقت بنانے کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ جرمنی کا یوروپ اور انڈو چائنا میں جاپان کا فوجی کردار اسی حکمت عملی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ شاید یوکرین جنگ میں فتح اور شکست اِتنی اہم نہ ہو، جتنے اس کے فوجی اور اقتصادی نتائج ہیں۔ امریکہ، چین، روس، یوروپ، ہندوستان اور جاپان جیسے بڑے ممالک کو اپنی اپنی حکمت عملیاں ازسر نو ترتیب دینے کا موقع ملے گا۔ اسی لیے جنگ اور اس کے بعد کے تناﺅ کا زمانہ طویل اور اقتصادی پابندیاں شدید ہوسکتی ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button