روس۔ یوکرین کشیدگی، خام تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیارل

روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت بڑھادی ہے۔ اب یہ تقریباً95 امریکی ڈالر فی بیارل بکنے لگا ہے۔ کووِڈ کی مار کے بعد بحال ہوتی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

نئی دہلی: روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت بڑھادی ہے۔ اب یہ تقریباً95 امریکی ڈالر فی بیارل بکنے لگا ہے۔ کووِڈ کی مار کے بعد بحال ہوتی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

اندیشہ ہے کہ مہنگائی بڑھے گی۔ یوکرین پر روس کے امکانی حملہ نے تیل کے دام 7 سال میں سب سے اونچی سطح پر پہنچادیئے۔ روس خود تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے۔

عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی کے تعلق سے اندیشے بڑھ گئے ہیں۔ یہ پیشرفت ہندوستان کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ ہندوستان اپنی تیل ضروریات کے لئے درآمدات پر منحصر ہے۔

خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے اندرون ملک دام بڑھیں گے جس کے نتیجہ میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔ یوکرین پر روس کے حملہ کی صورت میں امریکہ اور دیگر یوروپی ممالک تحدیدات عائد کرسکتے ہیں جس کے نتیجہ میں روسی تیل برآمدات درہم برہم ہوجائیں گی۔ مارکٹ میں تیل کی سپلائی گھٹ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

ایچ ڈی ایف سی سیکوریٹیز کے سینئر انالسٹ (کموڈیٹیز) تپن پٹیل نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور سپلائی گھٹنے لگی ہے۔

امریکہ نے اتوار کے دن خبردار کیا تھا کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کرسکتا ہے۔ وہ اس کے لئے کوئی بھی بہانہ تراش سکتا ہے۔ امریکہ نے اعادہ کیا کہ وہ ناٹو علاقہ کے ایک ایک انچ کی حفاظت کا پابند ہے۔

وائس پریسیڈنٹ ریسرچ آئی آئی ایف ایل سیکوریٹیز انوج گپتا نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ تیل کی قیمت بہت جلد 100 امریکی ڈالر فی بیارل ہوجائے گی۔

روس‘ یوکرین مسئلہ کی مسئلہ کی وجہ سے دام بڑھیں گے۔ سپلائی گھٹنے کی وجہ سے بھی تیل مہنگا ہوگا۔

تبصرہ کریں

Back to top button